تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 311

کلام کو تیرے دل پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اتارا ہے۔اس میں بتایا کہ وہ لوگ جو جبریل سے دشمنی کرتے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو کچھ اس نے اِس رسول کے دل پر اُتارا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اِذن سے اتارا ہے اور اس کے کہنے کے مطابق اتارا ہے۔پس اس سے دشمنی کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔اگر تم دشمنی کرو گے تو اللہ تعالیٰ سے کرو گے نہ کہ جبریل سے(۲)وہ تعلیم تمہاری کتابوں کی پیشگوئیوں کی تصدیق کرنے والی ہے۔اگر جبرائیل کو تم سے دشمنی ہوتی تو وہ ایسی تعلیم جو تمہاری تعلیم کو پورا کرتی ہے نہ اتارتا۔پس جبرائیل سے دشمنی کرنے کے یہ معنے ہیں کہ تم اپنی کتابوں سے بھی دشمنی کر رہے ہو۔(۳) پھر یہ کلام اس حال میں اُترا ہے کہ وہ ہادی اور مُبشر ہے۔جو شخص ہادی سے دشمنی کرتا ہے وہ گویا اپنی جان سے دشمنی کرتا ہے۔اور جو شخص مبشر سے دشمنی کرتا ہے وہ اپنی آئندہ نسلوں سے دشمنی کرتا ہے۔ہدایت انسان کے اپنے نفس سے تعلق رکھتی ہے اور بشارت آئندہ نسلوں کے ساتھ۔ہدایت ورثہ میں نہیں دی جاتی۔مگر دنیوی انعامات عام طور پر ورثہ میں چلے جاتے ہیں۔پس فرمایا کہ یہودی لوگ منبع سے بھی دشمنی کرتے ہیں اور درمیانی حالت سے بھی دشمنی کرتے ہیں اور انتہائی حالت سے بھی دشمنی کرتے ہیں۔(۱) منبع تو اللہ تعالیٰ ہے جس سے وہ دشمنی کرتے ہیں(۲) پھر وہ انبیاء جو دنیا میں اس کے ظل اور مظہر ہوتے ہیں اور ایک واسطہ کی حیثیت رکھتے ہیں اُن سے دشمنی کرتے ہیں۔(۳) پھر اپنی ذات کے بھی دشمن ہیں اور آئندہ نسلوں سے بھی دشمنی کرتے ہیں اور انہیں اُن انعامات اور افضال سے جو ایمان لانے سے اُن کو مل سکتے ہیں محروم کرتے ہیں۔پس جبریل کی دشمنی کوئی معمولی دشمنی نہیں۔جو اُس سے دشمنی کرتا ہے وہ دراصل اس سے نہیں بلکہ اللہ اور اپنی جان اور اپنی آئندہ نسلوں سے دشمنی کرتا ہے۔دوسرے معنٰی کی صورت میں مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ کا جواب اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت کے آخر میں رکھا ہے۔یعنی فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ کہ اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کا دشمن ہے۔مگر چونکہ فقرہ لمبا ہو گیا تھا اس لئے اس کے بعد پھر اس کے ذکر کو دُہرادیا ہے۔اور ساتھ ہی میکائیل کا بھی ذکر کر دیا ہے۔کیونکہ جبرائیل کی دشمنی میکائیل کی بھی دشمنی ہے اور اس کے بعد اس کی اصل جزا بتا دی ہے۔اوپر جو مضمون بیان ہوا ہے اس سے یہود کو یہ بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر وحی الہٰی کا نزول خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے اور اسی نے ان کو نبی بنایا ہے۔پس تمہارا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی کرنا خدا تعالیٰ سے دشمنی کرنا ہے۔اِسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے کلام کا انکار دراصل موسیٰ ؑ کا انکار ہے جس نے اس کی پیشگوئی کی تھی۔اب تم خود سوچ لوکہ تم اس مخالفت میں کہاں تک حق بجانب ہو۔