تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 310
اور کسی کلام کے ماننے یا ردّ کرنے میں اصل سوال یہی قابلِ غور ہوتا ہے کہ وہ درست ہے یا غلط۔پس اگر یہ کلام صحیح ہے اور اس میں بنی نوع انسان کی خیر خواہی اور اُن کی ترقی کی تعلیم دی گئی ہے تو تمہیں کسی اور امر کو مدنظر رکھ کر اُسے چھوڑنا نہیں چاہیے۔چوتھی بات یہ بتائی کہ یہ تعلیم ایسی ہے جو اپنے ماننے والوں کے لئے بُشْرٰی ہے۔یعنی اُن کو بڑے بڑے انعامات کا وعدہ دیتی ہے۔گویا اگر کوئی شخص صرف اس لئے کسی صداقت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا کہ وہ بنفسہٖ صداقت ہے بلکہ وہ انعامات کا بھی طالب ہو تو اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص اِس پر سچے دل سے عمل کرے گا اُسے بڑے بڑے انعامات بھی ملیں گے۔پس اس کو چھوڑنا اپنانقصان کرنا ہے۔اس فقرہ میں بھی یہود کو توجہ دلائی گئی ہے کہ تم تو کہتے ہو کہ جبریل عذاب کا فرشتہ ہے۔مگر اس کلام میں تو بشارتیں ہی بشارتیں بھر ی پڑی ہیں۔پھر وہ عذاب کا فرشتہ کیسے ہوا؟ غرض بتایا کہ یہ بحث ہی لغو ہے کہ کلامِ الٰہی جبرائیل لاتا ہے یا میکائیل۔کلام تو خدانازل کرتا ہے۔پس اگر کلام کی وجہ سے کسی سے دشمنی ہونی چاہیے تو خدا سے ہونی چاہیے۔جبرائیل جو ایک درمیانی واسطہ ہے اُس سے دشمنی کِس طرح جائز ہو سکتی ہے۔مگر تم خدا کو تو اپنا دوست قرار دیتے ہوا ور جبرائیل جو اس کا ایلچی ہے اُسے گالیاں دینے لگ جاتے ہو۔پھر دوسری طرف تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کرتے ہو اور کہتے ہو کہ جبرائیل اُس پر کلام کیوں لایا۔اور یہ نہیں سوچتے کہ اس کا کلام تمہاری کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اُن کی پیشگوئیوں کو پورا کرتا ہے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جبریل کا آنا اِس بات کی علامت ہے کہ جبریل تمہارا دشمن ہے تو یہ عجیب دشمنی ہے کہ اُسی کے کلام سے تمہاری کتابیں سچی ثابت ہو رہی ہیں۔پھر اس کا ھُدًی اور بُشْرَیٰ ہونا بھی بتاتا ہے کہ تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ جبریل آگ اور عذاب کا فرشتہ ہے کیونکہ اس کے ذریعہ جو کلام نازل ہوا ہے۔وہ ہدایت سے پُر ہے اور ایمان لانے والوں کو اعلیٰ درجہ کے رُوحانی انعامات سے سرفراز کرتا ہے۔پس جبرائیل یا میکائیل کی بحث میں پڑ کر اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ٖوسلم کو قبول کر لینا چاہیے۔میں نے اس آیت میں فَاِنَّہُ کے معنے لِاَ نَّہٗ کے کئے ہیں۔کیونکہ میرے نزدیک یہاں فَاء لام کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔مگر فَاء کے عام معنے قائم رکھ کر دوسرے معنے بھی کئے جا سکتے ہیں۔مگر اس صورت میں یہ جواب محذوف ماننا پڑے گا۔کہ فَـلَا وَجْہَ لِعَدَاوَتِہٖ۔اِس سے عداوت رکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔کیونکہ اُس نے اس