تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 293
اس کی نافرمانی شروع کر دیتے۔عربی زبان میں قَالَ کا لفظ کبھی زبانی قول کی بجائے عملی حالت کے اظہار کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔جیسے کہتے ہیں۔اِمْتَـلَأَ الْحَوْ ضُ وَقَالَ قَطْنِیْ۔یعنی حوض بھر گیا اور اُس نے بزبانِ حال کہا کہ اب مجھ میں اور گنجائش نہیں۔اِسی طرح یہاں بھی سَمِعْنَا وَ عَصَيْنَاسے یہ مراد ہو سکتی ہے۔کہ انہوں نے عملاً اس کی اطاعت سے انکار کر دیا۔لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ہی وقت میں انہوں نے سَمِعْنَا بھی کہا ہو۔اور عَصَیْنَا بھی کہا ہو۔کیونکہ انسان کسی بات کادو طرح جواب دیا کرتا ہے۔ایک زبان سے اور دوسرے دل سے۔پس اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اُن کی زبانیں سَمِعْنَا کہہ رہی تھیں اور ان کے دل عَصَیْنَا کہہ رہے تھے۔زبانیں تو کہتی تھیں کہ بس حضور یہی صحیح ہے گو یا وہ فرمانبرداری کا اقرار کر رہی تھیں مگر اُن کے دل نافرمانی کر رہے تھے۔اور انکار پر مصر تھے اور کہتے تھے کہ یہ تعلیم قابلِ عمل نہیں ہو سکتی۔وَ اُشْرِبُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ۔اس واقعہ کا ذکر خروج باب ۳۲ آیت ۲۰ میں اِس طرح آتا ہے کہ ’’اس نے اس بچھڑے کو جسے انہوں نے بنایا تھا لیا۔اور اُس کو آگ سے جلایا اور اُس کو پانی پر چھڑک کر بنی اسرائیل کو پلایا‘‘۔مگر قرآن کریم اِسے ردّ کرتا ہے۔کیونکہ سونا نہ جل سکتا ہے اور نہ پانی میں حل ہو سکتا ہے۔اس جگہ عجل سے مراد حُبُّ الْعِجْلِ ہے۔یعنی اُن کے دلوں میں اُس کی محبت گھر کر گئی تھی۔قُلْ بِئْسَمَا يَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِيْمَانُكُمْ۔فرماتا ہے اگر تم واقعہ میں ایمان لانے والے ہوتے۔تو کیا تمہارے ایمان تمہیں اس بات کی اجازت دے سکتے تھے کہ جب موسیٰ ؑ چند دنوں کے لئے باہر جاتے تو تم بُت پرستی شروع کر دیتے۔پھر تو اس ایمان سے کفر ہی بہتر ہے۔یہ ویسا ہی مضمون ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’بعد ازخدا بعشق محمدؐ مخمرّم گر کفرایں بود بخدا سخت کافرم‘‘ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۸۵) یعنی مجھ میں دو چیزوں کا عشق پایا جاتا ہے ایک اللہ کا اور دوسرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔اگر تم اس وجہ سے مجھے کافر ٹھہراتے ہو تو میں بھی تمہارے ساتھ مل کر اس امر کی تصدیق کرتا ہوں کہ میں بڑا سخت کافر ہوں۔اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی اسلوب اختیار فرمایا ہے کہ اگر تمہیں ایمان کا دعویٰ ہے تو پھر تو تمہارا وہ ایمان تمہیں بہت برُا حکم دیتا ہے کیونکہ تم ابتدا سے ہی اللہ تعالیٰ کے نبیوں کا انکار کرتے آئے ہو اور نبیوں کی مخالفت خواہ زبان سے ہو خواہ اعمال سے کبھی نیک نتائج پیدا نہیں کرتی۔پھر اس کے ہوتے ہوئے تم اپنے آپ کو ایماندار اور