تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 294

مومن کیسے کہتے ہو۔اگر اس کا نام تم ایمان کی بجائے انکار رکھو تو بہتر ہے۔کیونکہ ایمان اور نبیوں کی مخالفت دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ تو (ان سے ) کہہ کہ اگر اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر (باقی) لوگوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے ہے دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۹۵ تو اگر تم(اس دعویٰ میں) سچے ہو تو موت کی خواہش کرو۔تفسیر۔جو قوم اپنے اندر نبوت کو محدود کرتی ہے وہ لازماً نجات کو بھی محدود قرار دینے پر مجبور ہوتی ہے۔چونکہ یہود کے اندر یہ خیال راسخ ہو چکا تھا کہ انبیاء صرف بنی اسرائیل میں ہی آسکتے ہیں۔اس لئے لازماً اُن کے اندر یہ خیال بھی پیدا ہو گیا کہ اگلے جہان کے انعامات کے بھی وہی حقدار ہیں۔اور نجات صرف انہی کا حق ہے۔اِن کے علاوہ اور کوئی قوم نجات حاصل نہیں کر سکتی۔یہ بظاہر ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن اپنے نتائج کے لحاظ سے نہایت خطرناک ہے۔مگر افسوس ہے کہ قرآن مجید سے قبل اس حقیقت کو اور کسی نے نہیں سمجھا۔حالانکہ یہ ایسی غیر معقول بات ہے جسے کوئی عقلِ سلیم رکھنے والا انسان ایک منٹ کے لئے بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔پھر یہ خیال صرف یہود ہی کا نہ تھا بلکہ اس وقت بعض اور اقوام میں بھی یہ بات پائی جاتی تھی۔چنانچہ ہندو قوم کو دیکھ لو۔وہ بھی نجات صرف اپنے اندر محدود قرار دیتی ہے۔کسی اَورکو نجات یا فتہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔عیسائیوں نے بے شک آج کل اپنے مذہب کی تبلیغ عام کر دی ہے اور وہ کہتے ہیں۔کہ جو بھی مسیحؑ کے کفارہ پر ایمان لے آئے وہ نجات پا سکتا ہے۔مگر بعثت مسیحؑ سے پہلے وہ بھی نجات کو محدود قرار دیتے رہے ہیں اور اب بھی وہ اگر ساری دنیا کو تبلیغ کر رہے ہیں تو حضرت مسیحؑ کی تعلیم کے مطابق نہیں کر رہے۔بلکہ اس کی تعلیم کو پس پُشت ڈال کر کررہے ہیں ورنہ مسیح نے توخود کہا تھا کہ ’’ میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا۔‘‘ (متی باب ۱۵ آیت ۲۴) اِسی طرح انہوں نے ایک طالب ہدایت عورت کو جوکہ اسرائیلی نہ تھی بلکہ کنعان کی رہنے والی تھی۔صاف طور