تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 292
صرف بیّنٰت سے حضرت مسیح ؑ کی ابنیت یا الوہیت کا استدلال کرنا غلط ہے۔وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ۔حقوق کا تلف کرنا دو۲ قسم کا ہوتا ہے۔اوّل خدا تعالیٰ کے حقوق کو تلف کرنا۔دوم بندوں کے حقوق کو تلف کرنا۔اَنْتُمْ ظٰلِمُوْن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حقوق تلف کئے جانے کی طرف توجہ دلائی ہے اور بتایا ہے کہ تم مشرک ہو جو میرے حقوق کو تلف کرتے ہو۔ظالم کا لفظ مشرک کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔کیونکہ ظُلم کے لغوی معنے وَضْعُ الشَّیْ ءِ فِیْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ کے ہیںیعنی کسی چیز کو اُس کی مناسب جگہ سے ہٹا کر غیر مناسب جگہ رکھنا۔چونکہ مشرک بھی اللہ تعالیٰ کی صفات دوسروں کی طرف منسوب کر دیتا ہے اس لئے اُس پر ظالم کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔وَ اِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا اور (اس وقت کو بھی یاد کرو ) جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا تھا اور طور کو تمہارے اوپر بلند کیا تھا(یہ کہتے ہوئےکہ)جو مَاۤ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَيْنَا١ۗ وَ کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور اس (یعنی اللہ) کی اطاعت کرو۔اس پر(تم میں سے جو لوگ اس اُشْرِبُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا وقت ہمارے مخاطب تھے ) انہوں نے کہا تھا کہ (بہت اچھا) ہم نے سن لیا اور (ہم یہ بھی کہہ دیتے ہیںکہ) ہم نے يَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِيْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۹۴ (اس حکم کے)نہ ماننے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان کے کفر کے سبب سے ان کے دلوں میں بچھڑا(یعنی اس کی محبت کا جذبہ) گھر کر گیا۔تو (ان سے )کہہ کہ اگر تم (جیسا کہ تم دعویٰ کرتے ہو ) مومن ہو تو وہ کام جس کا تمہیںتمہارا ایمان حکم دیتا ہے بہت برا ہے۔حَلّ لُغَات۔اِسْمَعُوْا۔سَمِعَ لَہٗ کے معنے ہیں اَطَاعَہٗ اُس کی اطاعت کی۔پس اِسْمَعُوْا کے معنے ہیں اطاعت کرو۔اصل میں یہ اِسْمَعُوْا لَنَا ہے۔یعنی جس طرح ہم نے کہا ہے اُس طرح کرو۔مگر صلہ کو مخدوف کر دیا گیا ہے۔اگر اس کے معنے سُننے کے کئے جائیں تو پھر اس لفظ کا استعمال لغو ہو جاتا ہے۔کیونکہ اُن سے پہلے ایک عہدلے لیا گیا تھا اور عہد لے لینے کے بعد اُس کے سُننے کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔پس اس کے معنے اطاعت کرنے کے ہی ہیں۔اُشْرِبُوا۔اُشْرِبَ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔عربی زبان کا محاورہ ہے اُشْرِبَ فُـلَانٌ حُبَّ فُـلَانٍ (اقرب) کہ فلاں شخص کی محبت دوسرے کے دل میں رچ گئی ہے۔یہ لفظ ہمیشہ مجہول استعمال ہوتا ہے۔اور اس سے پلانا نہیں بلکہ ملانا مراد ہوتا ہے۔پس مطلب یہ ہے کہ بچھڑے کی محبت اُن کے ذرّہ ذرّہ میں رَچ گئی۔اصل میں اس سے مائع کا جامد چیزوں میں ملانا مراد ہوتا تھا۔چنانچہ’’بحرمحیط‘‘ میں لکھا ہے۔وَالْاِ شْرَابُ مُخَالَطَۃُ الْمَائِعِ الْجَامِدِ وَتَوَسَّعَ فِیْہِ حَتّٰی صَارَفِی اللَّوْ نَیْنِ قَالُوْا وَ اَشْرَبْتُ الْبِیَاضَ حُمْرَۃً اَیْ خَلَطْتُھَا بِالْحُمْرَۃِ۔یعنی اِشْرَابٌکسی مائع چیز کو جامد کے ساتھ ملانے کو کہتے ہیں۔پھر اس کا استعمال اس قدر وسیع ہو گیا کہ یہ رنگوں کے آپس میں ملانے پر بھی بولا جانے لگا۔چنانچہ اگر یہ کہنا ہو کہ میں نے سفیدی کو سُرخی میں ملا دیا۔تو اُس وقت اِشْرَابٌ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔اسی وسعت کے ماتحت یہ لفظ محبت کے دل میں گھر کرجانے پر بھی استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے ؎ اِذَا مَا الْقَلْبُ اُشْرِبَ حُبَّ شَیْ ءٍ فَـلَا تَأْمَلْ لَہٗ عَنْہُ انْصِرَافًا یعنی جب کسی کے دل میں کسی کی محبت سرایت کر جاتی ہے تو اُس کے بعد یہ اُمید رکھنا کہ وہ محبت اُس سے جاتی رہے گی نا ممکن ہے۔تفسیر۔وَ اِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ۔اس میں یہودکی عہد شکنی کی ایک اور مثال بیان کی ہے۔فرماتا ہے تم اُس وقت کو بھی یا د کرو جب ہم نے موسیٰ ؑکے زمانہ میں تم سے ایک عہد لیا۔اور عہد بھی ایسی حالت میں لیا جبکہ تم طور کے دامن میں کھڑے تھے جو کہ ایک مقدس مقام تھا مگر پھر بھی تم نے بد عہدی سے کام لیا اور طور کی تقدیس اور اس کی حرمت کا بھی خیال نہ رکھا۔درحقیقت کسی مقدس مقام میں کھڑے ہو کر جو عہد کیا جاتا ہے اُسے باقی عہدو ں پر ایک نمایاں فوقیت حاصل ہوتی ہے۔قرآن کریم نے بھی بعض قَسموں کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ نماز کے بعد لی جائیں۔کیونکہ ایسے موقع پر لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ کی خشیت سے لبریز ہوتے ہیں۔یہ عہد کیا تھا جو بنی اسرائیل سے لیا گیا ؟ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے خود ہی کر دیا ہے کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اِسے مضبوطی سے پکڑو اور ہماری اطاعت کرو۔مگر انہوں نے بجائے اطاعت کرنے کے کہا کہ ہم نے بات تو سن لی ہے مگر ہم یہ بھی کہے بغیرنہیں رہ سکتے کہ ہم اس کی نافرمانی کریں گے۔یہ ضروری نہیں کہ انہوں نے اپنی زبانوں سے ہی یہ الفاظ کہے ہوں بلکہ ہو سکتا ہے کہ اُن کی عملی نافرمانی کا اِن الفاظ میں اظہار کیا گیا ہو۔یعنی اُن کے اندر روحانی لحاظ سے ایسا بگاڑ تھا۔کہ وہ اِدھر بات سنتے اور اُدھر