تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 24

لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً(البقرہ :۸۱)یعنی یہود کہتے ہیں کہ ہمیں دوزخ کی آگ چند گنتی کے دنوں سے زیادہ کسی صورت میں نہ چھوئے گی۔یہود کے اس خیال کے متعلق ریورنڈ سیل رکوع۹ کی مذکورہ بالا آیت کے نیچے اپنے ترجمۂ قرآن میں لکھتے ہیں کہ زمانہ حال کے یہود کا یہ ایک مسلّمہ عقیدہ ہے کہ کوئی یہودی سوائے و اتن اور ابیرام اور دہریوں کے دوزخ میں گیارہ مہینوں یا حد سے حد ایک سال سے زیادہ نہ رہے گا۔پرانے لٹریچر میں مجھے اس بارہ میں کوئی حوالہ نہیں مل سکا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ زمانہ کی کتب تو بہت کچھ مٹ چکی ہیں اور زمانۂ حال کے مصنّفین اس غلط خیال میں مبتلا ہیں کہ یہود کلّی طور پر اور قومی طور پر بعث بعد الموت کے منکر ہیں۔اور اس وجہ سے بعد الموت زندگی کی نسبت انہوں نے کاوش کر کے یہودی خیالات کو معلوم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کم سے کم رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلّم کے زمانہ کے یہود بعد الموت زندگی کے قائل تھے چنانچہ اوپر کی آیت بھی اس پر شاہد ہے اور اَور کئی آیات بھی اس پر شاہد ہیں۔اوپر کی آیات کے مفہوم کی تشریح کے سِلسِلہ میں بعض احادیث اسلامی کتب میں آتی ہیں جو اس امر کی مزید وضاحت کر دیتی ہیں۔ابنِ اسحاق اور ابنِ جریر حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ یہود کا عقیدہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے اور ہر ہزار سال کے مقابل پر ہمیں ایک دن کا عذاب ملے گا۔اس کے بعد ہمارا عذاب ختم ہو جائے گا۔اسی طرح ابن جریر نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ بعض یہود کا خیال ہے کہ انہیں صرف چالیس دن تک دوزخ کا عذاب ملے گا کیونکہ انہوں نے چالیس دن تک بچھڑے کی پرستش کی تھی (سوائے واتن اور ابیرام کے جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے خلاف بغاوت کی تھی۔اور وہ ہلاک کر دیئے گئے تھے اور سوائے دہریوں کے ) حضرت ابن عباسؓ کی روایات میں جو دنوں کے بارہ میں اختلاف ہے کسی روایت میں سات دن بیان ہوئے ہیں اور کسی میں چالیس دن۔یہ اختلاف یہود کے مختلف قبائل کے مختلف خیالات کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے۔بہر حال ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے نزول کے زمانہ میں بعث بعد الموت کے قائل تھے مگر اُن کا خیال تھا کہ بوجہ اولادِ ابراہیم ہونے کے وہ لمبی سزا نہیں پائیںگے۔اور یہ خیال اُن کا کم سے کم کئی صدی پرانا تھا کیونکہ عرب میں رہنے والے یہود چند صدی پہلے سے عرب میں آکر بسے تھے۔پس اُن کے وہ خیالات جو دوسرے علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں ( دیکھو حوالہ سیل) بہر حال چند صدی پہلے کے ہی تسلیم کرنے پڑیں گے۔عہدنامہ قدیم میں بعث بعدالموت کا ذکر غور سے دیکھا جائے تو عہدنامۂ قدیم سے بھی بعد الموت زندگی کا پتہ چلتا ہے۔اورحقیقت یہ ہے کہ کوئی مذہب اس بارہ میں تعلیم دینے کے بغیر مکمل کہلا ہی نہیں سکتا۔کیونکہ