تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 25

بعد الموت زندگی ہی انسانی پیدائش کے مقصد کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے۔اس ذریعہ کے علم سے محروم رکھنا گویا مذہب کی غرض سے محروم رکھنا ہے۔پس جو مذہب اس تعلیم میں کوتاہی کرتا ہے اپنے خلاف خود گواہی دیتا ہے۔حضرت موسیٰ کی کتاب استثنا باب ۳۱ آیت ۱۶ میں لکھا ہے ’’ تب خداوند نے موسیٰ کو فرمایا دیکھ تو اپنے باپ دادوں کے ساتھ سو رہے گا۔‘‘ اس کے معنے صاف ہیں کہ مرنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رُوح اپنے باپ دادوں کے ساتھ رکھی جائے گی۔کیونکہ جسمانی طور پر موسیٰ علیہ ا لسلام کی قبر وہاں نہیں بنی جہاں کہ اُن کے باپ دادوں کی تھی۔کیونکہ وہ جنگل میںفوت ہوئے اور اُ ن کی قبر کا ظاہری نشان تک نہیں ملتا۔تورات میں لکھا ہے ’’ آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا۔‘‘ ( استثنا باب۳۴ آیت۶) پس معلوم ہوا کہ باپ دادوں کے ساتھ سونے سے مراد اُس جگہ رہنے کے ہی ہیں۔جہاں ان کی رُوحیں موت کے بعد رہتی ہیں۔اسی طرح تورات میں لکھا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام سے کہا ’’ اور اس پہاڑ پر جس پر تو جاتا ہے مر جا اور اپنے لوگوں میں شامل ہو جیسے تیرا بھائی ہارون حور کے پہاڑ پر مر گیا اور اپنے لوگوں میں جا مِلا۔‘‘ (استثنا باب ۳۲ آیت ۵۰) اس حوالہ سے بھی جسمانی موت کے بعد ایک اور زندگی کا ثبوت ملتا ہے۔اور معلوم ہوتا ہے کہ نیک ارواح کسی خاص جگہ پر اکٹھی رکھی جاتی ہیں۔ورنہ مرنے کے بعد اپنے باپ دادوں سے جا ملنے کے معنے ہی کیا ہوئے۔حضرت ایوب ٫ؑ فرماتے ہیں ’’ کاش میں اُن بچوں کی طرح ہوتا جنہوں نے اُجالا نہیں دیکھا۔یعنی بڑی عمر کو نہیں پہنچے۔پھر ان کی حالت کی نسبت فرماتے ہیں ’’وہاں شریر ستانے سے باز آتے اور تھکے ماندے چین سے ہیں وہاں اسیرمل کے آرام کرتے ہیں اور ظالم کی آواز پھر نہیں سُنتے۔چھوٹے بڑے وہاں برابر ہیں۔اور غلام اپنے آقا سے آزاد۔‘‘ ( ایوب باب۳ آیت ۱۷ تا ۱۹) اِن آیات سے بھی ایک دوسری زندگی کا پتہ ملتا ہے۔یہودیوں کے شفاعت کا عقیدہ تراشنے کی وجہ حضرت داؤد ؑ اﷲ تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرماتےہیں ’’ تو میری جان کو قبر میں رہنے نہ دے گا اور تو اپنے قدّوس کو سڑنے نہ دے گا۔تو مجھ کو زندگانی کی راہ دکھلائے گا۔‘‘ (زبور باب ۱۶ آیت ۰ ا،۱۱) اسی طرح حضرت داؤد ؑ فرماتے ہیں’’ ان لوگوں سے اے خداوند جو تیرے ہاتھ ہیں دنیا کے لوگوں سے جن کا بَخْرہ اسی زندگانی میں ہے اور جن کے پیٹ تُو اپنی نہانی چیزوں سے بھرتا ہے۔ان کی اولاد بھی سیر ہوتی اور وَے اپنی باقی دولت اپنے بال بچوں کے لئے چھوڑ جاتے ہیںپر مَیں جو ہوں صداقت میں تیرا مونہہ دیکھوں گا۔اور جب