تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 23

زندہ گئے تھے اُس کےپیٹ میں زندہ رہے تھے اور اس کے پیٹ سے زندہ ہی نکلے تھے۔پس معلوم ہوا کہ مسیح علیہ السلام بھی قبر میں زندہ ہی گئے اور زندہ ہی رہے اور یہ خیال کہ مسیح صلیب پر مر گئے تھے ایک باطل خیال ہے اور جب وہ مرے ہی نہیں تو اُن کا دوسروں کے گناہوں کی خاطر موت قبول کرنے کا مسئلہ بھی سراسر باطل ٹھہرا۔اب ہم حضرت مسیحؑ کو نعوذ باﷲ جھوٹا کہیں یا اُن لوگوں کو جو اُنہیںصلیب پر مار کر قبر میں مُردہ ہی کی حیثیت میں داخل کرتے ہیں اور مرُدہ ہی کی حیثیت میں رکھتے ہیں۔یہود پر انسانی قربانی کا اثر اس موقع پر یہ لطیفہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ باوجود اس کے کہ انسانی قربانی ان معنوں میں کہ لوگ خود کسی انسان کو پکڑ کر اپنے گناہوں کے کفاّرہ کے طور پر قتل کردیں حضرت ابرہیم علیہ ا لسلام کے زمانہ سے موقوف ہو چکی تھی مگر پھر بھی یہود اس کے اثر سے بالکل آزادنہ تھے۔چنانچہ کتاب قاضیوں باب۱۱ میں لکھا ہے کہ اسرائیلی سردار افتاح جب بنو عمون سے لڑنے کو نکلا تو اُس نے نذر مانی کہ اگر خدا تعالیٰ اُسے فتح دے تو سب سے پہلی چیز جو اُسے اُس کے گھر سے نکلتی ملے گی وہ اُسے قربان کرے گا۔اس کی واپسی پر اُس کی لڑکی جو اُس کی اکلوتی بیٹی تھی۔اُسے سب سے پہلے ملی۔اور اس نے اُسے قربان کر دیا۔اس قسم کی نذر بھی ایک قسم کا کفاّرہ ہوتا ہے۔اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر ہمارے گناہ ہماری کامیابی کے راستہ میں روک بنتے ہیں تو اُن کے اثر کو دُور کرنے کے لئے ہم فلاں قربانی پیش کریں گے۔خلاصہ یہ کہ قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ کوئی جان کسی جان کی قائم مقام کے طور پر خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش نہیں ہو سکتی نہایت سچا اور عقل کے مطابق دعویٰ ہے۔اور خودیہود اور نصاریٰ کی کتب اور حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام اور حضرت مسیح علیہ ا لسلام کے اقوال اس کے مؤید ہیں۔اور اس کے برخلاف جو خیالات یہود اور نصاریٰ میں پائے جاتے ہیں صرف ایک باطل خواہش کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔اور انہوں نے اپنے بزرگوں کو اپنے گناہوں کے بدلہ میں قربانی کےطور پر پیش کر کے ان بزرگوں کی سخت ہتک کی ہے اور گناہ کا دروازہ بہت وسیع کر دیا ہے۔شفاعت اور اس کے متعلق یہودیوں کے خیالات دوسری بات جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے یہ ہے کہ اُس دن کوئی شفاعت بھی کسی کی طرف سے قبول نہ کی جائے گی۔یہ بھی یہود و نصاریٰ کے رائج الوقت خیالات کے ردّ میں ہے۔یہود نسبی شفاعت کے قائل تھے اور اُن کا خیال تھا کہ اُن کا اولاد ابراہیم میں سے ہونا ان کے لئے شفاعت کا موجب ہو گا اور اس تعلق کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ انہیں کوئی سزا نہیں دے گا۔یا اگر سزادے گا تو نہایت محدود۔قرآن کریم میں آگے چل کر اسی صورت میں اُن کے اس دعویٰ کا مندرجہ ذیل الفاظ میں ذکر ہے وَ قَالُوْا