تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 255

اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۰۰۸۶ جو کچھ تم کر رہے ہواللہ اس سے ہرگز بے خبر نہیں۔حَلّ لُغَات۔خِزْیٌ۔یہ لفظ۔ذلّت ،سزا،بُعد اور ندامت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ لُغت میں لکھا ہے۔اَلخِزْیُ: اَلْھَوَانُ وَالْعِقَابُ وَالْبُعْدُ وَالنَّدَامَۃُ۔(اقرب الموارد) تفسیر۔اس آیت میں بتایا کہ یہود کی یہ کیفیت ہے کہ باوجود اس کے کہ شریعت میں ان کو ان دونوں کاموں سے روکا گیا تھا۔پھر بھی وہ ایک دوسرے کو قتل کرتے اور ایک دوسرے کو ان کے گھروں سے نکالتے ہیں۔گھروں سے نکالنے کا مطلب یا تو جلاوطن کرنا ہوتا ہے یا دوسرے کو غلام بنا لینا۔غلام چونکہ دوسرے کے تابع ہوتا ہے اور وہ اُسے جہاں چاہے لے جا سکتا ہے۔اس لئے اس جگہ گھروں سے نکالنے کے معنے جلاوطنی کے نہیں بلکہ غلامی کے ہیں۔بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ اس سے پہلے سَفْکُ الدِّمَآءِ کا ذکر کیا گیا ہے۔جس میں جنگ کی طرف اشارہ ہے۔پس ضروری ہے کہ گھروں سے نکالنے کے معنے غلامی ہی کے لئے جائیں جو جنگ کے نتیجہ میں لازماً پیدا ہوتی ہے۔یہ حکم کہ تم دوسروں کو قتل نہ کرو۔خروج باب۲۰ آیت ۱۳ میں اس طرح آتا ہے کہ ’’ ُتو خون مت کر۔‘‘ اور دوسروں کو گھروں سے نہ نکالنے کا اصولی ذکر خروج باب ۲۱ آیت ۱۶ میں پایا جاتا ہے۔وہاں لکھا ہے۔’’ اور جو کوئی کسی آدمی کو چُرائے خواہ وہ اُسے بیچ ڈالے خواہ وہ اس کے ہاں ملے۔وہ قطعی مار ڈالا جائے۔‘‘ اِسی طرح کسی اسرائیلی کو غلام بنانے کی ممانعت کا ذکر احبار باب ۲۵ آیت ۳۹ تا ۴۱ میں اس طرح کیا گیا ہے کہ ’’اگر تیرا بھائی جو تجھ پاس ہے مفلس ہو جائے اور تیرے ہاتھ بک جائے تو تُو اس سے غلام کی مانند خدمت نہ کروا بلکہ وہ مزدور اور مسافر کی مانند تیرے ساتھ رہے اور یوبل کے سال تک تیری خدمت کرے۔اور بعد اس کے وہ تجھ سے جُدا ہو جائے گا۔اور وہ اور اس کے لڑکے اُس کے ساتھ اور اپنے گھرانے کے پاس اور اپنے باپ کی ملکیت کو پھر جائے گا۔‘‘ اِسی طرح احبارباب۲۵ آیت ۵۴ میں لکھا ہے۔