تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 256
’’اگر وہ اِن برسوں میں چھڑا یا نہ جائے تو یوبل کے سال میں(جو ہر ساتویں سال آتا ہے) وہ آزاد ہو جائیگا۔اور اس کے لڑکے اس کے ساتھ۔‘‘ اِن احکام سے یہود نے جو کچھ نتیجہ نکالا وہ نحمیاہ نبی کے طریق عمل سے ظاہر ہے جنہوں نے بنی اسرائیل کے سب غلاموں کو آزاد کروادیا۔ان کو بھی جو غیر قوموں کے پاس تھے اور ان کو بھی جو اپنوں کے پاس تھے۔( نحمیاہ باب ۵ آیت۸) اور طالمودک زمانہ میں تو یہود کا اس بات پر اتفاق ہو گیا تھا کہ یہودی غلام نہیں بنایا جا سکتا۔چنانچہ انسائیکلوپیڈیا ببلیکا جلد ۴ میں لکھا ہے۔’’یہ اصل کہ کوئی یہودی کبھی غلام نہیں بنایا جا سکتا طالمودی قانون میں شامل کیا گیا۔حتّٰی کہ وہ چو ر بھی جسے اُس کے جرم کی وجہ سے فروخت کیا جاتا تھا۔غلام نہیں سمجھا جاتا تھا۔اور سلوقیوں SCLEUCIDS اور ٹولمیوںPTOLEMIESکی جنگ کے وقت جب بہت سے یہودی کافروں کے ہاتھ میں قید ہو گئے تو ان کا چھڑانا ایک فرض اور ثواب کا کام سمجھا جاتا تھا۔‘‘ (انسائیکلوپیڈیا ببلیکا زیر لفظ Slavery) اِن احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کو غلام بنانا جو اُن کو گھروں سے نکالنے کے مترادف ہے بائیبل کے حکم کے مطابق ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا۔اور اگر کوئی قید ہو جائے تو اس کے لئے ایسے احکام تھے جن کے نتیجہ میں وہ جلد سے جلد آزاد ہو جائے۔یہودی غلام صرف دو طرح بن سکتاتھا۔اوّل اس طرح کہ کوئی اپنے آپ کو بیچ ڈالے۔ہماری شریعت نے اسے ناجائز قرار دیا ہے مگر اُن میں یہ جائز تھا۔وہ قرضہ اور تنگی کے باعث اپنے آپ کو فروخت کر سکتے تھے۔دوم اس طرح کہ عدالت ان کو بیچ دے۔خواہ قرضہ میں بیچے یا کسی ایسے جرم کے نتیجہ میں بیچے جس سے مالی طور پر دوسرے کا نقصان ہوا ہو۔مثلاً کسی نے چوری کر لی ہو یا غبن کر لیا ہو یا کوئی اور نقصان پہنچایا ہو۔مگر اِن دونوں صورتوں میں غیر یہودی کے ہاتھ میں اس کا غلام ہونا بہت ہی بُرا سمجھا جاتا تھا۔حتیّٰ کہ عدالت جس کو بیچتی تھی اس کو بھی کسی غیر یہودی کے ہاتھ نہیں بیچ سکتی تھی۔اِس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ باوجود اس کے کہ تم کو یہ احکام دیئے گئے تھے تم ایک دوسرے کو قتل کرتے ہو۔یعنی اس سے جنگ کرتے ہو۔اور تم میں سے ایک فریق اپنے آدمیوں کو ان کے گھروں سے باہر نکالتا ہے۔یعنی اس جنگ کے نتیجہ میں وہ قید ہو کر غلام بنا لئے جاتے ہیں اور اس طرح ایک دوسرے کے خلاف دشمنوں کی گناہ اور ظلم