تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 254

خاص طور پر مخاطب کیا اور انہیں اس طرف توجہ دلائی کہ ان بدیوں کے تم خاص طور پر شکار ہو۔ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ۔اس میں بتایا کہ بعض اوقات محض ادب کی وجہ سے انسان کسی بات کو مان لیتا ہے مگر اس کا دل اس کی برتری اور اہمیت کا قائل نہیں ہوتا۔لیکن ہمارے یہ احکام اتنے اعلیٰ درجہ کے تھے کہ نہ صرف تم نے اپنی زبانوں سے اس کا اقرار کیا بلکہ تمہارے دل بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ احکام بہت مفید ہیں۔مگر تم نے اپنے اقرار کو بھی پسِ پُشت پھینک دیا اور اپنی قلبی شہادت کو بھی ٹھکرا دیا۔اور اپنے بھائیوں کے خلاف تم نے جنگ شروع کر دی۔ثُمَّ اَنْتُمْهٰؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِيْقًا پھر تم لوگ ہی ہو کہ(اس عہد کے باوجود) آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے ہو اور اپنے میں سے ایک مِّنْكُمْ مِّنْ دِيَارِهِمْ١ٞ تَظٰهَرُوْنَ عَلَيْهِمْ بِالْاِثْمِ جماعت کو گناہ اور ظلم کے ساتھ (ان کے دشمنوں کی ) مدد کرتے ہوئے ان کے گھروں سے نکالتے ہو اور اگر وہ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ يَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ تمہارےپاس قیدی ہو کر (مدد مانگنے کے لئے) آئیں۔تو تم فدیہ دے کر انہیں چھڑالیتے ہو گو حقیقتاً ان کا (گھر وں عَلَيْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ سے) نکالنا (بھی) تم پر حرام کیا گیا تھا۔تو کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر تو ایمان لاتے ہو اور ایک حصہ کا انکار کرتے ہو ؟ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا پس تم میں سے جو ایسا کرتے ہیں ان کی سزا اس (جہان کی) زندگی(ہی) میں رسوائی(اٹھانے )کے سوا اور کیا ہے خِزْيٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۚ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُرَدُّوْنَ اِلٰۤى (جو انہیں ملے گی )اور وہ قیامت کے دن اس سے بھی سخت عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے اور