تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 246
من انکر التثلیث من نصاریٰ)۔اور بعض اپنے علماء کے ہر ایک حکم کو وحی الہٰی کے طور پر مانتے اور اپنی کتاب کے احکام کو پس پُشت پھینک دیتے۔یتامیٰ اور مساکین کے ساتھ ان کا سلوک نہایت بُرا تھا۔اور بنی نوع انسان کی ہمدردی اُن کے اندر نام کو بھی نہ تھی۔عبادتوں میں سُست اور زکوٰۃ دینے سے جی چرُاتے تھے۔جیسے آج کل کے مسلمان ایک طرف تو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دوسری طرف وہ تمام باتیں جو یہود کے متعلق خدا تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں ان میں بھی پائی جاتی ہیں۔یہود سے تو صرف یہ عہد لیا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا۔لیکن مسلمانوں پر خدا تعالیٰ نے اتنا فضل کیا کہ اسلام کی بنیاد ہی اس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ پر رکھی۔یعنی اس بات پر کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں وہ قادرِ مطلق ہے۔وہ ہر ایک کام خود کر سکتا ہے۔اُس کو کسی کی مدد کی ہرگز ضرورت نہیں۔مگر باوجود اس کے کہ اسلام کی بنیاد لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ پر رکھی گئی تھی آج مسلمانوں میں اس قدر شرک پایا جاتا ہے کہ اور قوموں میں اس کی نسبت بہت کم ہے۔مسلمان قبروں پر بغیر کسی قسم کے حجاب کے اس طرح سجدہ کرتے ہیں کہ خدا کے آگے سجدہ کرنے والوں میں اور ان میں ذرہ بھی فرق نہیں رہ جاتا۔مجھے اس بات پر ہمیشہ تعجب آیا کرتا تھا کہ کیا کوئی مسلمان بھی قبر پر سجدہ کر سکتا ہے؟ اور میں باوجود شہادتوں کے اس پر یقین نہیں کرتا تھا۔لیکن ایک دفعہ جب ہم چند آدمی ہندوستان میں اسلامی مدارس دیکھنے کے لئے گئے تو لکھنؤ میں فرنگی محل کا مدرسہ دیکھ کر میرا دل بہت خوش ہوا۔اچھے لائق اور عالم اُستاد تھے۔ہوشیار اور ذہین شاگرد معلوم ہوتے تھے لیکن اس مدرسہ اور دوسرے مدارس کو دیکھ کر جب ہم شام کو واپس اپنے مکان کی طرف آرہے تھے تو ایک قبر کے سامنے جو آدمی پورا پورا سجدہ کر رہا تھا وہ فرنگی محل کے مدرسہ کا ایک استاد تھا۔مجھے اس کو دیکھ کر تعجب ہوا کہ اس نے علم پڑھ کر بھی اس کی کچھ قدر نہ کی اور قبر پر سجدہ کرنے لگ گیا۔مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اِن آیات میں اسی لئے یہود کا ذکر سنایا تھا کہ ایک دن تم بھی اسی طرح کرنے لگو گے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود سے ہم نے یہ بھی اقرار لیا تھا کہ والدین کے ساتھ احسان کرنا۔یہ بات بھی اس زمانہ میں مسلمانوں سے بالکل مٹ گئی ہے۔یہ تو ضروری سمجھا جاتا ہے کہ والدین اپنی اولاد سے نیک سلوک کریں۔ان کی پرورش کریں۔اُن پر اپنا مال صرف کریں لیکن یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ اولاد بھی والدین پر احسان کرے اور اُن کی خدمت بجا لائے۔اِسی طرح یہود سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ قریبیوں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔پھر تمام دنیا میں جس قدر لوگ ہیں ان کو نیک باتیں کہنا۔یہ کیسی اچھی اور عمدہ تعلیم تھی۔کوئی بوجھ نہ تھا۔کوئی عقل کے خلاف بات نہ تھی لیکن جس طرح یہود نے ان احکام پر عمل ترک کر دیا تھا۔اسی طرح مسلمانوں نے بھی ان