تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 245
ہاتھ کشادہ رکھیو۔‘‘ (۸)تمام بنی نوع انسان سے نیک سلوک کرنے کا حکم خروج باب۲۳ آیت ۱ تا ۷ میں اس طرح ہے۔’’ توکسی کی جھوٹی خبر مت اُڑا۔ُ تو ظلم کی گواہی میں شریروں کا ساتھی مت ہو۔توُ گروہ کی پیروی بدی کرنے میں مت کیجیئو اور توُکسی جھگڑے میں لوگوں کی بہتات کے سبب اُن کی طرف مائل ہو کے ناحق مت کیجیئو اور نہ کنگال کی اُس کے مقدمہ میں طرفداری کیجیئو اگر توُ اپنے دشمن کے بیل یا گدھے کو بے راہ جاتے دیکھے تو ضرور اُسے اُس کنے پہنچائیو۔اگر توُاس کے گدھے کو جو تیرا کینہ رکھتا ہے دیکھے کہ بوجھ کے نیچے بیٹھ گیا اور تو اس کی مدد نہ کرنا چاہے تو البتہ اس کی کمک کر۔توُاپنے محتاج سے اس کے مقدمہ میں انصاف کو مت پھیرئیو۔جھوٹے معاملہ سے دور رہیو۔اور بے گناہوں اور بچوں کو قتل مت کیجیئو۔کیونکہ میں شریر کی تصدیق نہ کروں گا۔‘‘ اسی طرح امثال باب۳ آیت۳۰ میں لکھا ہے۔’’اگر کسی نے تجھے نقصان نہ پہنچایا ہو تو اُس سے بے سبب جھگڑا نہ کرنا۔‘‘ (۹)نماز قائم کرنے کا حکم استثناء باب۱۳ آیت۴ میں یوں ہے کہ ’’چاہیے کہ تم خداوند اپنے خدا کی پیروی کرو اور اس سے ڈرو اور اس کے حکموں کو حفظ کرو۔اور اس کی بات مانو۔تم اُسی کی بندگی کرو اور اسی سے لپٹے رہو۔‘‘ اسی طرح استثنا باب۶آیت۱۳ میں لکھا ہے۔’’تو خداوند اپنے خدا کا خوف ماننا اور اُسی کی عبادت کرنا اور اُسی کے نام کی قسم کھانا۔‘‘ (۱۰)زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم خروج باب۲۳ آیت ۱۰،۱۱ میں یوں ہے۔’’اور چھ برس زمین میں کھیتی کر اور اس سے جو پیدا ہو جمع کر۔پر ساتویں برس اُسے چھوڑدے کہ پڑی رہے تاکہ تیری قوم کے مسکین اُسے کھاویں۔اور جو اُن سے بچے میدان کے چار پائے چریں۔ایسا ہی توُ اپنے انگور اور زیتون کے باغ کا معاملہ بھی کیجیئو۔‘‘ مگرباوجود ان احکام کے یہود ان کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور ان کے سلوک اپنوں اور بیگانوں سے خراب ہو رہے تھے۔یہاں تک کہ ان میں سے بعض حضرت عُزیر کو ابن اللہ قرار دینے لگ گئے تھے۔جیسا کہ یہود کا صدوقی فرقہ جو یمن کی طرف رہتا تھا اس شرک میں ملوث ہو چکا تھا(الملل و النّحل زیر عنوان الکلام علی الیہود و علی