تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 247
احکام پر عمل ترک کر دیا۔پھر حکم تھا کہ نمازیں پڑھو۔لیکن دیکھ لو آج کتنے مسلمان ہیں جو نمازیں پڑھتے ہیں۔پھر حکم تھا کہ زکوٰۃ دو۔مگر بہت تھوڑے ہیں جو اس کے پابند ہیں۔اللہ تعالیٰ یہود کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ ان احکام کو سن کر پِھر گئے اور ان پر عمل نہ کیا۔اسی طرح اب مسلمانوں نے کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان احکام سے اکثر پِھر گئے۔اسی طرح مسلمان ذوی القربیٰ کو شریکہ یعنی دشمنی کا باعث سمجھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جن کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا تھا اُن سے دشمنی اور لڑائی جھگڑے کئے جاتے ہیں۔یتیموں کے ساتھ ملاطفت اور نرمی کا حکم تھا لیکن ان کے اموال بڑی دلیری سے کھائے جاتے ہیں۔مسکینوں کی خبر گیری اُن کا فرض تھا لیکن انہیں حقارت اور نفرت سے دیکھا جاتا ہے۔تمام بنی نوع انسان کو نیک باتوں کی تلقین کرنا ان کا فرض تھا لیکن اس فرض کی ادائیگی کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔وہ ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم ہمیں کافر کہتے ہو مگر خودیہ کبھی سوچنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے کہ اُن کا اپنا عمل اسلام پر کہاں تک ہے۔مجھے کئی غیر احمدیوں سے گفتگو کرنے کا موقع ملا ہے۔جب اس قسم کی بحث ہو تو میں ان سے پوچھا کرتا ہوں کہ آپ اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں مسلمان۔َمیں کہتا ہوں کہ میں بھی آپ لوگوں کو مسلمان ہی سمجھتا ہوں۔مگر آپ یہ بتائیں کہ کیا آج کل مسلمانوں میں اسلامی احکام پر عمل پایا جاتا ہے؟ اس پر انہیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ نہیں پایا جاتا۔میں کہتا ہوں کہ ہم بھی یہی بات کہتے ہیں کہ آج کل مسلمانوں میں حقیقت ِ اسلام نہیں رہی۔ورنہ نام کے لحاظ سے تو وہ یقیناً مسلمان ہی ہیں اور اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔پس جس طرح مسلمان جانتے ہیں کہ چوری ناجائز ہے۔جھوٹ اور افترا ناجائز ہے۔دوسروں کے حقوق غصب کرنا ناجائز ہے مگر پھر بھی وہ ان افعال کے مرتکب ہوتے ہیں۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہود بالکل مطلب پرست اور مشرک ہو گئے تھے اور باوجود اس کے وہ مسلمانوں سے جو ان احکام پر بلکہ ان سے بڑے بڑے احکام پر عمل پیرا تھے لڑتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی صداقت کے متعلق تویہ عذرپیش کر سکتے ہو کہ ہم ان پر ایمان نہیں رکھتے مگر تورات کے ان احکام کے متعلق کیا عذر کر سکتے ہو۔تمہارا ان احکام کو تسلیم کرنا اور پھر اُن سے کلی طور پر اعراض اختیار کر لینا بتاتا ہے کہ اب تم میں صداقت باقی نہیں رہی۔مگر جیسا کہ قرآن کریم کا طریق ہے اُس نے اس آیت میں بھی یہود کی بدیوں کا ذکر کرتے ہوئے اُن کی تمام قوم کو یکساں مجرم قرار نہیں دیا بلکہ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْكُمْ فرما کر اُن میں سے جو نیک لوگ تھے اُن کو مستثنیٰ کر لیا ہے۔اِس آیت کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم میں ہر جگہ ترتیب کے حسن کو قائم