تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 216
سے بنی اسرائیل کو میرے سپرد نہیں کرتے تو فَاعْتَزِلُوْنِ کم سے کم میرے راستہ میں روکیں تو پیدا نہ کرو۔اٰمَنَ کے اسم فاعل کے صیغہ میں مومنین کے ساتھ دو جگہ پر باء کا صلہ استعمال ہوا ہے اور وہاں ایمان کے ہی معنے ہیں۔صرف ایک جگہ پر لام کا صلہ استعمال ہوا ہے جہاں اُس کے معنے بات مان لینے کے ہیں۔یہ لَام کے صلہ کا استعمال سورۂ یوسف میں ہے جہاں آتا ہے۔وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ ( یوسف :۱۸) آپ ہماری بات نہیں مانیں گے اگرچہ ہم سچ ہی کیوں نہ کہہ رہے ہوں۔یہاں بھی اُس ایمان کا ذکر نہیں جس کا خدایا خدا تعالیٰ کے رسولوں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے بلکہ جزوی تصدیق کا ذکر ہے۔ایمان سے جمع متکلّم کا صیغہ چار جگہ باء کے ساتھ استعمال ہوا ہے اور آٹھ جگہ لام کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔اِن میں سے ایک جگہ سورۂ شعراء میں ہے جہاں کفار کا یہ قول درج ہے کہ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ (الشّعراء:۱۱۲) انہوں نے کہا کیا ہم تیرے فرمانبردار ہو جائیںحالانکہ تیرے فرمانبردار رذیل لوگ ہیں۔یہاں بھی ایمان کا لفظ فرمانبرداری کے معنوں میں استعمال ہوا ہے (۲) پھر سورۂ مومنون میں فرعونیوں کا یہ قول لکھا ہے کہ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ (المؤمنون:۴۸) یہاں بھی فرمانبرداری کے ہی معنے ہیں۔فرعون کی قوم کہتی ہے کہ کیا ہم ایسے دو آدمیوں کی اطاعت اختیار کر لیں جن کی قوم ہماری غلام ہے گویا ہم غلاموں کے غلام ہو جائیں (۳) تیسرا مقام سورۂ آل عمران آیت ۱۸۴ہے وہاں یہ الفاظ ہیں اَلَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى يَاْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں تاکید کر دی تھی کہ ہم کسی رسول کی بات نہ مانیں جب تک کہ وہ ہمارے پاس وہ قربانی نہ لائے جس کو آگ کھاتی ہو۔یہاں دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔لیکن چونکہ دوسرے مقامات میں جہاں لام استعمال ہوا ہے یا تو فرمانبرداری کے معنے لئے گئے ہیں یا کسی خاص بات کو تسلیم کرنے کے معنے لئے گئے ہیں کلّی ایمان کے معنے نہیں لئے گئے اور چونکہ یہ معنے بھی اِس جگہ پرچسپاں ہو سکتے ہیں اس لئے دوسری آیات کے تابع یہاں بھی یہی معنے سمجھے جائیں گے کہ اس جگہ کلّی ایمان مراد نہیں بلکہ فرمانبرداری مراد ہے (۴) چوتھی جگہ سورۂ توبہ میں ہے وہاں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَيْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ ( التوبۃ :۹۴) منافق تمہارے پاس عذر کرتے ہوئے آتے ہیں جبکہ تم جنگ سے اُن کی طرف واپس آتے ہو۔اے رسول تم انہیں کہہ دو کہ عذر مت کرو۔ہم تمہاری بات اِس بارہ میں ماننے کے لئے تیار نہیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں تمہاری خبر دے دی ہے۔یہاں بھی ایک خاص بات کے ماننے کا ذکر ہے کلّی ایمان کا ذکر نہیں۔کیونکہ نبی اپنی جماعت کے افراد پر ایمان نہیں لایا