تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 215

اور جس موقع کی وجہ سے خاص معنے پیدا ہو جاتے ہیں ان کی بجائے کلام کو ایسے رنگ میں ڈھال دینا کہ اس کے مخصوص معنوں کی بجائے اس میں دو احتمال پیدا ہو جائیں جس کی وجہ سے پڑھنے والے پر اصل معنی ظاہر نہ ہوں۔(مفردات) تفسـیر۔اٰمَنَ بِہٖ اور اٰمَنَ لَہٗکے معنوں میں فرق اٰمَنَ لَہٗ کے معنے جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں لکھا گیا ہے اطاعت اور فرمانبرداری یا جزوی تصدیق کے ہوتے ہیں۔گو اس کے معنے کلّی تصدیق کے بھی ہیں لیکن کلّی تصدیق کے لئے زیادہ تر اٰمَنَ کا صلہ باء آتا ہے جیسے سورۂ بقرہ کے پہلے رکوع میں آتا ہے وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ۔(البقرۃ:۵) قرآن کریم میں اٰمَنَ یا اٰمَنُوْا کے الفاظ کے ساتھ جہاں صلہ مذکور ہوا ہے وہاں دو ہی صلے آتے ہیں باء کا صلہ اور لام کا صلہ۔اِن میں سے باء کا صلہ تریپن دفعہ آیا ہے اور لام کا صلہ آیتِ زیر تفسیر کے علاوہ تین جگہوں میں آیا ہے۔لیکن جہاں کہیں بھی لام کا صلہ آیا ہے وہاں اطاعت اور فرمانبرداری کے معنے ہی زیادہ مرجّح ہیں۔چنانچہ سورۂ یونس میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىِٕهِمْ اَنْ يَّفْتِنَهُمْ۔(یونس :۸۴) یعنی گو دل میں تو بنی اسرائیل کا بہت سا حصہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آیا تھا مگر ظاہر ہو کر حضرت موسیٰ ؑکے احکام کی اطاعت اور فرمانبرداری کی توفیق صرف کچھ ہی لوگوں کو ملی تھی۔کیونکہ باقی لوگ فرعون اور اُس کے معاونوں کی ایذاء سے ڈرتے تھے۔اسی طرح سورۂ طٰہٰ میں آتا ہے فرعون نے ساحروں سے کہا اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ (طٰہٰ :۷۲) یہاں بھی یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ تم نے موسیٰ کی فرمانبرداری اختیارکر لی اور میری بغاوت کی۔کیونکہ فرعون کو قلبی ایمان کے ساتھ کوئی خاص دلچسپی نہیں ہو سکتی تھی۔اس کوتوموسیٰ علیہ السلام کی سیاسی فرمانبرداری اور اطاعت کی ہی فکر تھی۔یہی آیت سورۂ شعراء ع ۳میں بھی آئی ہے۔پس قرآن کریم کے محاورہ کے لحاظ سے جہاں ایمان کا ذکر ہو وہاں اٰمَنَ بِہٖ کے الفاظ آتے ہیں اور جہاں اطاعت کا ذکر ہو وہاں اٰمَنَ لَہٗ کے الفاظ آتے ہیں۔ایمان سے مضارع مخاطب کا صیغہ بارہ جگہ قرآن کریم میں باء کے صلہ کے ساتھ استعمال ہوا ہے اور ایک جگہ سورۂ دخان میں لام کے صلہ کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔جہاں آتا ہے۔وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِيْ فَاعْتَزِلُوْنِ (الدّخان :۲۲)یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قول فرعونیوں کے متعلق ہے۔اِس جگہ بھی اطاعت کے معنے ہی زیادہ مناسب ہیں کیونکہ اس سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ قول درج ہے کہ اَنْ اَدُّوْۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ (الدخان:۱۹)۔اﷲ کے بندے میرے سپرد کر دو۔پس اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِيْ کے معنے یہ ہیں کہ اگر تم میری بات نہیں مانتے یعنی خوشی