تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 189

اِنْ نَبَشْتُمْ مَا بَیْنَ مَلْحَۃَ فَالصَّا قِبِ فِیْہِ الْأَمْوَاتُ وَ الْأَحْیَاءُ (سبعہ معلّقہ قصیدہ نمبر۷) یعنی اے ہماری دشمن قوم اگر تم ملحہ اور صاقب دونوں مقاموں کے درمیان قبروں کو کھود کر دیکھو تو ان قبروں میں تم کو مُردے بھی ملیں گے اور زندہ بھی ملیں گے۔مطلب اس کا یہ ہے کہ ہماری قوم بہادر اور غیوّر ہے۔جب کبھی ہمارے کسی آدمی کو تمہاری قوم کے کِسی آدمی نے مارا ہے تو ہم نے اُس کا بدلہ ضرور لے لیا ہے اور اس طرح ہمارا مُردہ زندہ ہو گیا لیکن جب ہمارے کسی آدمی نے تمہاری قوم کے کِسی آدمی کو مارا ہے تو تم اس کا بدلہ نہیں لے سکے پس تمہارے مُردے قبروں میں ذلیل رہے کیونکہ اُن کا بدلہ کسی نے نہیں لیا۔یہ شعر عرب کے زمانۂ جاہلیت کے ایک چوٹی کے شاعر کا ہے اور اِس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ عربی زبان میں مُردہ زندہ کرنے کے معنے یہ بھی ہیں کہ کسی مقتول کا بدلہ لے لیا جائے پس اس مفہوم کی رو سے كَذٰلِكَ يُحْيِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى کے معنے یہ ہوں گے کہ اس طرح اﷲ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو جو اُس کی راہ میں قتل ہوئے ہوں یا اس کی وجہ سے قتل ہوئے ہوں اُن کا بدلہ لے کر زندہ کر دیتا ہے۔جیسا کہ مَیں اوپر بتا چکا ہوں ایک معنے اس آیت کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جو مُردوں کی طرح ہوں اُن کو زندہ کر دینا۔یہ معنے عام محاورہ کے مطابق ہیں بعض دفعہ ایک چیز دوسری چیز کے ساتھ ایسی مشابہ ہو جاتی ہے کہ اُس کا نام اسے مل جاتا ہے چنانچہ عام بول چال میں جب کسی شخص کو کوئی سخت چوٹ لگے تو وہ اپنے درد اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے ’’ ہائے میں مر گیا ‘‘مطلب یہ ہوتا ہےکہ مَیں مُردوں کی طرح ہو گیا۔پس آیت کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ جو مُردوں کی طرح ہوں اﷲ تعالیٰ اُن کو زندہ کر دیتا ہے یعنی جن کے بچنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔اور دنیوی علوم ان کی ہلاکت کا فتویٰ دے دیتے ہیں خدا تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے بچا لیتا ہے۔وَ يُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۔اور تم کو اپنے نشان دکھاتا ہے تاکہ تم غلطیوں اور گناہوں سے رُکو۔عقل کے معنے حَلِّ لُغَات آیت نمبر ۴۵ سورۃ ھٰذا میں بتائے جا چکے ہیں کہ باندھنے اور روکنے اور رُکنے کے ہوتے ہیں۔عقل کی قوت کو عقل اسی لئے کہتے ہیں کہ اس کے ذریعہ سے انسان اپنے آپ کو گناہوں اور غلطیوں سے روک لیتا ہے۔آیت کے اس ٹکڑہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اوپر جس امر کا ذکر کیا گیا ہے وہ ایک نشان ہے جس سے سمجھدار لوگ فائدہ اُٹھا کر گناہ اور بدی سے بچ سکتے ہیں یا کفر اور طغیان سے نجات پا سکتے ہیں۔