تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 188

کی طرح ہے جس میں سے مَیں گویا شیر کا وجود دیکھنے کے قابل ہو گیا۔اور کبھی اس کے معنے ساتھ ہونے کے ہوتے ہیں جیسے کہتے ہیں اِھْبِطْ بِسَلَامٍ سلامتی کے ساتھ اُترو یعنی تم بھی اُترو اور تمہارے ساتھ سلامتی بھی اُترے۔کبھی اس کے معنے تبعیض یعنی کچھ حِصّے کے ہوتے ہیں کہتے ہیں شَرِبَ بِمَاءِ الْبَحْرِ اس نے سمندر کے پانی کو پیا یعنی سمندر کے پانی کا کچھ حصّہ پیا۔اسی طرح بکے معنے قَسم کے بھی ہوتے ہیں جیسے کہتے ہیں بِاللہِ کہ مَیں اﷲ کی قسم کھاتا ہوں اور کبھی یہ تاکید کے لئے بھی آتا ہے (اقرب) ان کے علاوہ عربی زبان میں اِس کے اَور بھی کئی معنے ہیں۔اِس آیت میں صرف دو معنے چسپاں ہو سکتے ہیں ایک اِلصاق کے، دوسرے سببیّت یا تعلیل کے۔اِلصاق کے لحاظ سے اِس آیت کے معنے یُوں ہوں گے کہ اس کے بعض کے ساتھ اسے مارو یعنی اس کا بعض حصّہ اس پر زور سے پھینکو۔اور سببیّت یا تعلیل کے لحاظ سے اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اس کے بعض (گناہ) کے سبب سے اسے مارو۔كَذٰلِكَ يُحْيِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى میں اِحیاءِ مَوتٰی سے مراد كَذٰلِكَ يُحْيِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى کے دو معنی ہیں۔اوّل یہ کہ اس طرح اﷲ تعالیٰ مُردوں کو زندہ کرتا ہے یعنی حقیقی مُردوں کو زندہ کر کے اس دنیا میں واپس لاتا ہے۔یہ معنے اس جگہ پر نہیں لئے جا سکتے کیونکہ قرآن شریف کی دوسری آیات ان معنوں کے خلاف ہیں اور اُن سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقی مُردے اس دنیا سے واپس نہیں آسکتے۔(دیکھئے تفسیر آیت نمبر ۵۷سورہ ھٰذا) دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہو سکتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ اس طرح ایسے لوگوں کو جو مُردوں کے مشابہ ہوتے ہیں زندہ کرتا ہے یا یہ کہ اﷲ تعالیٰ اس طرح مُردوں کی عزّت کو بچا لیتا ہے یا آئندہ دنیا کو ہلاکت سے بچا لیتا ہے۔آخری دونوں معنوں کی تصدیق قرآن کریم سے ہوتی ہے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوةٌ يّٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ(البقرۃ :۱۸۰) یعنی اے عقلمندو! قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے اگر مناسب موقع پر قاتل کو سزا دی جائے تو آئندہ قتل کے جُرم کم ہو جائیں گے اور اس طرح کئی لوگوں کی جانیں بچ جائیںگی۔اس محاورہ کے رُو سے مُردے کو زندہ کرنے کے یہ معنے نہیں کہ جو مر چکا ہو اُسے زندہ کرنا۔بلکہ یہ معنے ہیں کہ جس کے قتل ہونے کا خطرہ تھا اُس کو اِس خطرہ سے بچا لینا۔اور اس رنگ میں بھی قصاص حیات ہے کہ جو مارا جاتا ہے اس کی عزّت قائم ہو جاتی ہے اور رشتہ داروں کے دلوں سے بُغض اور کینہ نکل جاتا ہے۔اگر قاتل کو سزا نہ ملے تو رشتہ داروں کے دلوں میں بُغض اور کینہ باقی رہ جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے آدمی کو قتل کر کے اُس کی ذلّت کی گئی ہے۔عربوں کی بول چال میں بھی یہ محاورہ پایا جاتا ہے چنانچہ ایک شاعر حارث بن حلزہ کہتا ہے ؎