تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 190
وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا۔۔۔۔الخ میں بیان شدہ واقعہ کے متعلق پہلے مفسرین کا خیال ان دونوں آیتوں میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا اس کے متعلق پرانے مفسّرین کا خیال یہ ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے ایک مقتول سے تعلق رکھتا ہے اور وہ اس کی تفصیل یُوں بیان کرتے ہیں کہ عامیل نامی ایک شخص کو (بقول کرمانی) یا نکار کو ( بقول ماوردی)اس کے بھتیجے نے اور بعض کے نزدیک اس کے بھائی نے قتل کر دیا تھا۔اس پر اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ گائے ذبح کریں جس کا ذکر ان لوگوں کے نزدیک اوپر کی آیات میں آچکا ہے اور پھر حکم فرمایا کہ اس گائے کے بعض ٹکڑوں کو اس مقتول کے ساتھ مارو۔وہ ٹکڑا جس کے مارنے کا حکم دیا گیا تھا اس کے بارہ میں مفسرین کا اختلاف ہے۔بعضوں نے کہا ہے کہ اُس کی زبان کو مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔بعضوں نے کہا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کے آخری سرے کو مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔بعضوں نے کہا ہے کہ اُس کی دائیں ران کے مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔حضرت ابن عباسؓ کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے کہ جس ہڈی سے کان نکلے ہیں۔اُس ہڈی کو مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔جب انہوں نے ایسا کیا تو اﷲتعالیٰ نے اس گائے کے ٹکڑے کے مارنے سے مُردے کو زندہ کر دیا۔(فتح البیان زیر آیت ھٰذا) اختلاف کے بارہ میں کہتے ہیں کہ قاتل نے لاش ایک ایسی جگہ پھینک دی تھی جو کئی قبائل کے درمیان واقع تھی اس وجہ سے آپس میں اختلاف ہوا۔ہر قبیلہ نے کہا کہ دوسروں نے مارا ہے ہم نے نہیں مارا۔مفسرین اس بات کی وجہ تلاش کرنے میں بھی لگ گئے ہیں کہ قاتل نے کیوں مارا۔بعض کہتے ہیں کہ مقتول کی لڑکی خوبصورت تھی اُس سے شادی کرنے کے لئے اُس نے چچا کو مارا۔بعض کہتے ہیں کہ قاتل غریب تھا۔وہ چاہتا تھا کہ اپنے چچا یا بھائی کو مار کر اس کا وارث بن جائے۔علاّمہ قرطبی نے تو اس واقعہ سے بعض مسائل اسلامیہ کا استخراج بھی کیا ہے مگر ظاہر ہے کہ یہ تفسیریں جو کی گئی ہیں ان کا کوئی حصّہ بھی قرآن کریم یا حدیث سے ثابت نہیں۔وَاِذْ قَتَلْتُمْ میں بیان شدہ واقعہ کے متعلق سابق مفسرین کے خیالات کے متعلق ابن کثیر کی رائے اسی وجہ سے علاّمہ ابنِ کثیر نے ان روایات کو درج کر کے آخر میں لکھا ہے وَظَاھِرٌ اَنَّھَا مَاْخُوْذَۃٌ مِنْ کُتُبِ بَنِٓیْ اِسْرَائِیْلَ وَھِیَ مِمَّا یَجُوْزُ نَقْلُہَا وَلٰـکِنْ لَّا نُصَدَّقُ وَلَا نُکَذَّبُ فَلِھٰذَا لَا یُعْتَمَدُ عَلَیْھَا اِلَّا مَا وَافَقَ الْحَقَّ عِنْدَ نَا ( ابن کثیر زیر آیت اِنَّ اللہُ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَذبَحُوْا بَقَرَۃً ) یعنی یہ ظاہر بات ہے کہ یہ سب قصّے بنی اسرائیل کی کتابوں سے لئے گئے ہیں اور ان قصّوں کا نقل کرنا تو جائز ہے لیکن ان کی تصدیق یا تکذیب کرنا جائز نہیں پس ایسے قصّوں پر کسی صورت میں بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہاں صرف اِس صورت میں ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے جبکہ وہ اس