تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 187

یُسْتَعَارُ الْمَوْتُ لِلْاَحْوَالِ الشَّاقَّۃِ کَالْفَقْرِ وَالذُّ لِ وَالسُّؤَالِ وَالْھَرَمِ وَالْمَعْصِیَۃِ۔کبھی موت کا لفظ استعارۃً تکلیف دِہ حالتوں پر بھی جیسے فقر۔ذ لّت۔سوال۔بڑھاپا اور معصیت ہیں بولا جاتا ہے۔اٰیٰتِہٖ۔اٰیٰتٌ۔اٰیَۃٌ کی جمع ہے اور اٰیَۃٌ کے معنے علامت۔نشان اور دلیل کے ہوتے ہیں نیز قرآن کریم کے ہر ایسے ٹکڑے کو جسے کسی لفظی نشان کے ساتھ دوسرے سے جُدا کر دیا گیا ہو اٰیَۃٌ کہتے ہیں۔(تاج ) تَعْقِلُوْنَ۔عَقَلَ (یَعْقِلُ) سے مضارع مخاطب جمع کا صیغہ ہے اور عَقَلَ الدَّوَاءُ الْبَطْنَ کے معنے ہیں اَمْسَکَہٗ دوائی نے اس کے پیٹ کو روک دیا۔یعنی قبض کر دی۔اور جب عَقَلَ الْغُلَامُ کہیں تو معنے ہوں گے اَدْرَکَ لڑکا بالغ ہو گیا۔یعنی اچھی اور بُری باتوں کو سمجھنے لگ گیا۔اور عَقَلَ الشَّیْ ءَ عَقْلًا کے معنے ہیں فَھِمَہٗ وَ تَدَبَّرَہٗکسی چیز کو سمجھا اور اس کے متعلق غور و فکر کیا۔عَقَلَ الْبَعِیْرَ۔ثَنٰی وَظِیْفَہٗ مَعَ ذَرَاعِہٖ فَشَدَّھُمَا مَعًا بِحَبْلٍ اُونٹ کی ٹانگ کو اس کی ران کے ساتھ باندھ دیا۔عَقَلَ الْوَعْلُ عَقْـلًا کے معنے ہیں صَعَدَ وَامْتَنَعَ فِی الْجَبَلِ الْعَالِیْپہاڑی بکر اپہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں جا کر رُک کر محفوظ ہو گیا۔نیز اَلْعَقْلُ کے معنے ہیں نُوْرٌ رُوْحَانِیٌّ بِہٖ تُدْرِکُ النَّفْسُ الْعُلُوْمَ الضَّرُوْرِیَّۃَ وَالنَّظَرِیَّۃَ کہ عقل اس روحانی روشنی کا نام ہے جس کے ذریعہ سے نفس بدیہی باتوں کو یا غورو فکر سے معلوم ہونے والی باتوں کو معلوم کرتا ہے (اقرب) پس اَفَـلَا تَعْقِلُوْنَ کے معنے ہوں گے (۱) کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے (۲) کیا تم اپنی ناواجب حرکات سے رُکتے نہیں۔تفسیر۔اِضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا میں باء کے معنے سببیت یا اِلْصَاق کے پس ہم نے اُن سے کہا کہ اس کو یعنی قاتل کو اُس کے یعنی مقتول کے بعض کے ساتھ یا بعض کے سبب سے مارو۔ب کے معنے عربی زبان میں کئی ہوتے ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں۔اوّل۔اِلْصَاق یعنی اس کے ساتھ ملا دینا جیسے کہا جاتا ہے اَمْسَکْتُ بِخَالِدٍ مَیں نے خالد کو پکڑ لیا یعنی میرا جسم اور اُس کا جسم مِل گیا۔کبھی اِن معنوں میں یہ لفظ مجازاً بھی استعمال ہوتا ہے جیسے کہتے ہیں مَرَرْتُ بِزَیْدٍ میں زید کے پاس سے گزرا یعنی گو جسم جسم سے چھؤا نہیں مگر ایک رنگ میں قُرب حاصل ہو گیا۔دوسرے معنے اس کے فعل لازم کو متعدّی بنانے کے ہوتے ہیں جیسے کہتے ہیں ذَھَبْتُ بِزَیْدٍ مَیں زید کو لے گیا اور کبھی اس کے معنے امداد طلب کرنے کے ہوتے ہیں جیسے کہتے ہیں نَجَوْتُ بِالْفَرَارِ بھاگ کر میں نے نجات حاصل کی یعنی بھاگنے سے مدد حاصل کی۔کبھی اس کے معنے سببیّت کے ہوتے ہیں یعنی وہ چیز اس کا سبب بن گئی جیسے کہتے ہیں لَقِیْتُ بِزَیْدِنِ الْاَسَدَ زید کے سبب سے مَیں نے شیر کو دیکھا۔یعنی زید اپنی قوت اور شوکت میں ایک شیر