تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 186

ہونے کے ہیں جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا (مریم :۲۴) حضرت مریم ؑ نے دردِزِہ کے وقت میں فرمایا کاش میں اس سے پہلے بیہوش ہو جاتی۔اس جگہ موت سے مراد حقیقی موت نہیں بلکہ درد کی وجہ سے انہوں نے بیہوشی کی خواہش کی ہے (۳) تیسرے معنی حیات کے علم اور عرفان کے ہوتے ہیں۔اور موت کے معنی جہالت کے ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ (الانعام :۱۲۳) یعنی کیا وہ شخص جو جاہل ہو اور پھر ہم نے اسے علم رُوحانی بخشا ہو اس جیسا ہو سکتا ہے جو اس کے برخلاف ہے اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى (الروم :۵۳) تو مُردوں کو نہیں سُنا سکتا۔مراد یہ ہے کہ تو جاہلوں سے بات نہیں منوا سکتا (۴) زندگی سے مراد خوشیاں ہوتی ہیں اور موت کے معنے تکلیفوں اور دُکھوں کے ہوتے ہیں قرآن کریم میں ہے۔يَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَيِّتٍ(ابراہیم :۱۸)یعنی دوزخی کو چاروں طرف سے موت آئے گی مگر وہ مرا ہوا نہ ہو گا۔یعنی غم اور پریشانی لاحق ہو گی۔مگر موت نہ آئے گی (۵) پانچویں معنی حیات کے جاگنے اور ہوشیار ہونے کے ہیں۔اور اس کے بالمقابل موت کے معنی نیند کے ہیں (۶) چھٹے معنے حیات کے جاندار کا سانس لینا۔یا سانس کی حالت کا پایا جانا ہے اور موت کے معنے اس کے سانس کا بند ہو جانا یا سانس کے بغیر ہونا ہے۔اَلْمَوْتٰی۔اَلْمَیِّتُ کی جمع ہے اور اَلْمَیِّتُ کے معنے ہیں اَلَّذِیْ فَارَقَ الْحَیٰوۃَ جس کے اندر حیات نہ رہے (اقرب) (موت۔حیات کے مقابل کا لفظ ہے) جو معنی حیات کے ہوں اُس کے اُلٹ معنی موت کے ہوتے ہیں۔زَوَالُ الْحَیَاۃِ عَنْ مَّنْ اِتَّصَفَ بِھَا : اس چیز سے زندگی کا علیحدہ ہو جانا جو زندگی کے ساتھ متصف ہو۔(اقرب) مفردات میں ہے۔اَلْمَوْتُ زَوَالُ الْقُوَّۃِ الْحَیَوَانِیَّۃِ وَاِبَانَۃُ الرُّوْحِ عَنِ الْجِسْمِ۔قوت حیوانیہ اور رُوح کا جسم سے علیحدہ ہو جانا موت کہلاتا ہے۔اَنْوَاعُ الْمَوْتِ بِحَسْبِ الْحَیٰوۃِ۔موت کئی قسم کی ہوتی ہے جس قسم کی زندگی ہو گی اسی کے مطابق موت ہو گی۔(۱) فَالْاَوَّلُ مَاھُوَ بِـاِ زَاءِ الْقُوَّۃِ النَّامِیَّۃِ الْمَوْجُوْدَۃِ فِی الْاِنْسَانِ وَالْحَیَوَانَاتِ وَالنَّبَاتِ۔انسان۔حیوانات اور نباتات میں نشوونما کا رُک جانا موت کہلاتا ہے جیسے يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الروم :۲۰) میں اشارہ فرمایا ہے (۲) اَلثَّانِیْ۔زَوَالُ الْقُوَّۃِ الْحَاسَّۃِ احساس کا زوال بھی موت کہلاتا ہے جیسے حضرت مریم علیہ ا لسلام کا قوليٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا (مریم :۴ ۲) ہے کہ اے کاش میں اس سے پہلے کی بے حس ہو چکی ہوتی (۳) زَوَالُ الْقُوَّۃِ الْعَاقِلَۃِ زوال عقل یعنی جہالت بھی موت کہلاتی ہے جیسے اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ (الانعام :۱۲۳) (۴) اَلرَّابِعُ۔الْحُزْنُ الْمُکَدِّرَۃُ لِلْحَیٰوۃِ۔ایسے غم جو زندگی کو دوبھر کر دیں جیسے فرمایا۔يَأْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَيِّتٍ(ابراہیم :۱۸) (۵) اَلْخَامِس۔اَلْمَنَامُ نیند۔لسان میں ہے۔وَقَدْ