تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 185
والا یا قتل کروانے والا یا قتل کرنے یا کروانے کی کوشش کرنے والا کون شخص ہے۔اسی طرح اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ اس بُغض اور کینہ کو ظاہر کر دے گا جو اس قتل یا ارادۂ قتل کا موجب ہوا۔چونکہ اس آیت کے مضمون کی تکمیل اگلی آیت میں ہوتی ہے اِس لئے اس آیت کی پوری تشریح اگلی آیت کے ماتحت کی جائے گی۔فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ يُحْيِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى ١ۙ وَ اس پر ہم نے کہا کہ اس کو (یعنی قاتل) کو اس (ضائع شدہ جان) کے (جرم قتل کے) ایک حصہ کے سبب سے يُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۷۴ مارو۔اللہ اسی طرح مُردوں کو زندہ کرتا اور تم کو اپنے نشان دکھاتا ہے تاکہ تم عقل کرو۔حَلّ لُغَات۔اِضْرِبُوْہُ۔امر جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور ضَرَبَہٗ بِیَدِہٖ وَ بِالْعَصَا کے معنے ہیں اَصَا بَہٗ وَ صَدَ مَہٗ بِھَا یعنی اس کو ہاتھ سے یا سونٹے سے یا کسی اور چیز سے مارا۔نیز کہتے ہیں ضَرَبَ الشَّیْءَ بِالشَّیْ ءِ اور معنے یہ ہوتے ہیں خَلَطَہٗ ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ مِلا دیا۔نیز کہتے ہیں ضَرَبَ لَہٗ مَثَـلًا اور مراد یہ ہوتی ہے وَصَفَہٗ وَ قَالَہٗ وَ بَیَّنَہٗ کسی مثال کو بیان کیا۔(اقرب) ضَرَبَہٗ بِالسَّیْفِ: اَوْقَعَہٗ بِہٖ یعنی اس پر تلوار سے حملہ کیا۔(اقرب )پس اِضْرِبُوْہٗ کے ایک معنی ہوں گے اس کو مارو۔بِبَعْضِہَا۔بَعْضُ کُلِّ شَیْ ءٍ کے معنے ہیں طَائِفَۃٌ مِّنْہُ ساری چیز کا ایک معتدبہ حصّہ وَقِیْلَ جُزْءٌ مِّنْہُ اور بعض محققین کے نزدیک کسی چیز کے ایک تھوڑے سے حصّہ پر بھی بعض کا لفظ بولا جاتا ہے وَیَجُوْزُ کَوْنُہٗ اَعْظَمَ مِنْ بَقِیَّتِہٖ کَالثَّمَانِیَۃِ مِنَ الْعَشَرَۃِ اور بعض کا لفظ کسی چیز کے بڑے حصّہ کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے جیسے دس میں سے آٹھ کو بعض کہیں گے حالانکہ آٹھ بقیہ دو ۲ سے بہت زیادہ ہیں۔(اقرب) یُحْيٖ۔اَحْيٰ سے مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور یُحْيٖ کے معنے ہیں وہ حیات بخشتا ہے یا وہ حیات بخشے گا۔حیات کے معنی لغت میں (۱) نمو کے ظاہر ہونے کے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الروم :۲۰) یعنی اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے خشک اور ویران ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے یعنی اس میں سبزہ ،چارہ اُگاتا ہے (۲) دوسرے معنی حیات کے حِس کا درست ہونا ہے اور موت کے معنے حِس کے زائل