تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 184

کے معنے اس جگہ پر ارادۂ قتل کے بھی ہو سکتے ہیں۔( دیکھئے تفسیر آیت نمبر ۶۲) وَاِذَا قَتَلْتُمْ نَفْسًامیں نَفسکو نکرہ استعمال کرنے کی وجہ نَفْسًا پر جو تنوین آئی ہے اس کے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ کسی غیر معروف آدمی کو اور یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ایک عظیم الشّان انسان کو قتل کیا۔کیونکہ تنوین عربی زبان میں تنکیر کے لئے بھی آتی ہے اور تعظیم کے لئے بھی آتی ہے یعنی اس کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ کوئی شخص یا چیز ایسی غیر معروف ہے کہ اس کا نام ہمیں معلوم نہیں یا ایسی بے حقیقت ہے کہ اس کا نام لینے کی ہمیں ضرورت نہیں اور یا پھر اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ شخص یا وہ چیز جس پر تنوین آئی ہے نہایت ہی اہم اور عظیم الشان ہے اور جس بارہ میں اس کا ذکر کیا گیا ہے وہ ایسا اہم امر ہے کہ ہر شخص کا ذہن اُدھر جا سکتا ہے اس لئے معرفہ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًاکے تین معنے اوپر کی تشریحات کے مطابق اس آیت کے معنے یہ ہوئے کہ اے یہودی قوم۔یاد کرو جبکہ تم نے بحیثیت جماعت (۱) ایک عظیم الشّان انسان کو قتل کیا تھا یا قتل کرنا چاہا تھا(۲) یا کسی شخص کی پُشت پناہ بن کر یا اُسے انگیخت کر کے اور اُکسا کر کسی عظیم الشّان شخص کو قتل کرنا چاہا تھا یا قتل کیا تھا(۳) یا یہ کہ اے بنی اسرائیل جبکہ تم نے ایک غیر معروف شخص کو جس کا نام لینے کی ضرورت نہیں قتل کیا تھا یا قتل کرنا چاہا تھا اور پھر اس بارہ میں تم نے اختلاف کیا یعنی یا تو یہ کہا کہ ہم نے قتل نہیں کیا یا یہ کہا تھا کہ ہم نے قتل نہیں کروایا۔یا یہ کہا تھا کہ ہم نے قتل کرنے کی کوشش نہیں کی اور یا یہ کہا تھا کہ ہم نے قتل کروانے کی کوشش نہیں کی اور یا یہ کہ ہمیں معلوم نہیں ایسا شخص قتل ہو گیا ہے یا نہیں ہوا۔ان معنوں میں سے یہ معنے کہ ایک غیر معروف شخص کو تم نے قتل کرنا چاہا تھا یا قتل کیا تھا سب سے کمزور معنے ہیں کیونکہ ایک غیر معروف شخص کے قتل کا نہ تو یہودی قوم ارادہ کر سکتی تھی کیونکہ اس میں قوم کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا اور نہ ایسے شخص کے قتل کے متعلق قوم میں کوئی اختلاف پیدا ہونے کا امکان تھا پس جہاں تک نفسِ مضمون کا تعلق ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نَفْسًا سے اس جگہ ایسا شخص ہی مراد ہے جس کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن اس کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا ہے گویا وہ ایسا شخص ہے کہ بغیر نام لینے کے بھی اس کی طرف ذہن منتقل ہو سکتا ہے۔وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ اور اﷲ تعالیٰ اسے نکالنے والا ہے جو تم چھپاتے تھے یعنی کسی نہ کسی ذریعہ سے اﷲ تعالیٰ قاتل کا یا قتل کرنے کی انگیخت کرنے والے کا یا قتل کرنے یا کروانے کی کوشش کرنے والے کا بھانڈا پھوڑ دے گا اور اس کے چہرے پر سے نقاب اُٹھا دے گا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اس عظیم الشّان انسان کو قتل کرنے