تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 182

اپنی کتاب ’’ پیغام صلح‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’ ’ ہم ہندوؤں کے بزرگوں حضرت کرشن اور حضرت رامچندر جی کو قرآنی تعلیم کے مطابق خدا تعالیٰ کا نبی مانتے ہیں اگر ہندو لوگ بھی ہمارے آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی اسی طرح عزّت کرنے لگ جائیں تو ہم ان کی اِس قربانی کے بدلہ میں اِس بات کے لئے تیار ہیں کہ اِس مُلک میں گائے کی قربانی کو بند کر دیں۔‘‘مگر افسوس کہ ہندو قوم نے اس نہایت ہی منصفانہ پیشکش کو قبول نہ کیا۔وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِيْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ اور( اس وقت کو بھی یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا پھر تم میںسے ہر ایک نے اپنے سر سے الزام کو دور کرنے تَكْتُمُوْنَۚ۰۰۷۳ کی کوشش کی حالانکہ جو( کچھ) تم چھپاتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنے والا تھا۔حَلّ لُغَات۔قَتَلْتُمْ۔قَتَلَ سے جمع مخاطب کا صیغہ ہے۔تشریح کے لئے ملاحظہ کریں حَلِّ لُغَات سورہ ھٰذا آیت نمبر ۵۵ اور ۶۲۔نَفْسًا۔نَفْسٌ کی تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغَات سورہ ھٰذاآیت نمبر۴۹۔فَادّٰرَءْ تُمْ۔اِدّٰرَءْ تُمْ اصل میں تَدَارَءْ تُمْ تھا۔’’ تا ‘‘ اور ’’د‘‘ جو کہ قریب المخارج ہیں اکٹھے آ گئے پس ’’تا‘‘ ’’دال ‘‘ ہو کر دال میں مدغم کر دی گئی۔ادغام کی وجہ سے ابتدائی حرف ساکن ہو گیا اور اس وجہ سے اس کا پڑھا جانا ناممکن تھا اس لئے اس کے قبل ہمزہ وصل لگایا گیا تاکہ ابتداء کا حرف پڑھا جا سکے۔تَدَارَءْ تُمْ دَرَءَ سے باب تفاعل کا ماضی جمع مخاطب کا صیغہ ہے دَرَءَ ہٗ (یَدْرَءُ ہٗ) کے معنی ہیں دَفَعَہٗ وَقِیْلَ دَفَعَہٗ ( دَفْعًا) شَدِیْدًا یعنی کسی کو اپنی طرف سے ہٹایا یا سختی سے دُور کر کے اپنا بچاؤ کیا۔اور تَدَارَءَ الْقَوْمُ کے معنے ہیں تَدَافَعُوْافِی الْـخُصُوْمَۃِ وَاخْتَلَفُوْا یعنی لوگوں نے آپس میں سختی سے جھگڑا کیا اور ہر ایک نے دوسرے کو ملزم کر کے اپنا بچاؤ کرنا چاہا اور اس طرح ان کے درمیان اختلاف برپا ہو گیا۔اَلدَّرْءُ ( جو دَرَءَ کا اسم مصدر ہے ) کے اصل معنے اَلْمَیْلُ وَالْعِوَجُ فِی الْقَنَاۃِ کے ہیں یعنی نیزہ میں ٹیڑھاپن اور کجی کا ہونا۔عرب کہتے ہیں قَوَّمْتُ دَرَءَ فُـلَانٍ اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ مَیں نے فلاں شخص کی کجی اور غلط رَوِی کو دُور کیا نیز اس کے معنے ہیں اَلْخِلَافُ جھگڑا۔اختلاف (اقرب) زجّاج کہتے ہیں مَعْنَی اِدّٰرَءْ تُمْ فَتَدَارَءْ تُمْ اَیْ تَدَافَعْتُمْ اَیْ اَلْقٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ کہ اِدّٰرَءْ تُمْ کے معنے ہیں تم نے