تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 183
آپس میں کسی امر کے متعلق اس طور پر اختلاف کیا کہ ہر ایک نے اپنے سر سے الزام کو دُور کرنے اور دوسرے کے ذمّہ لگانے کی کوشش کی۔(لسان) مُـخْرِجٌ۔اَخْرَجَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور اَخْرَجَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں اَبْرَزَہٗ کسی چیز کو ظاہر کیا۔نکالا۔(اقرب) پس مُخرِجٌ کے معنے ہوں گے ظاہر کرنے والا۔تَکْتُمُوْنَ۔کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ کے معنی ہیں تم چھپاتے تھے۔تَکْتُمُوْنَ کَتَمَ (یَکْتُمُ کَتْمًا وَ کِتْمَانًا) سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے کَتَمَ الشَّیْءَ کے معنی ہیں اَخْفَاہُ اس کو پوشیدہ رکھا۔بعض اوقات کَتَمَ کے دو مفعول آ جاتے ہیں چنانچہ کہتے ہیںکَتَمَ زَیْدَنِ الْحَدِیْثَ کہ اس نے زید سے بات کو مخفی رکھا۔اس میں زَیْد اور اَلْحَدِیْثَ دونوں کَتَمَ کے مفعول ہیں (اقرب) نیز اہل عرب کہتے ہیں کَتَمَ الْفَرَسُ الرَّبْوَ اور اس سے مراد یہ لیتے ہیں کہ ضَاقَ مَنْخِرُہٗ عَنْ نَفْسِہٖ کہ گھوڑا جب دوڑتے ہوئے ہانپ گیا اور لمبے سانس لینے لگا تو نتھنوں کے تنگ ہونے کی وجہ سے وہ پوری طرح سانس نہ لے سکا (اقرب)گویا جب کسی چیز کی وضع ایسی ہو کہ وہ کسی بات کے ظاہر کرنے سے قاصر ہو تو اس وقت بھی اس کے متعلق کَتَمَ کا لفظ استعمال کر لیتے ہیں۔مفرداتِ راغب میں امام راغب لکھتے ہیں کہ لَا یَکْتُمُوْنَ اللّٰہَ حَدِیْثًا کے معنی حضرت ابن عباسؓ اور حسنؓ نے یہ کئے ہیں کہ ان کا اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہ چھپا سکنا اس طور پر ہو گا کہ اُن کے جوارح تمام باتو ںکو ظاہر کر دیںگے۔(مفردات) گویا آپ ہی آپ جو بات ظاہر ہو جائے وہ خلاف کَتَمَ ہے۔پس جو بات آپ ہی رکی ہوئی ہو اس پر کَتَمَ بولیں گے۔پس تَکْتُمُوْنَکے دو معنے ہوئے (۱) جو تم چھپاتے ہو (۲) جو تم سے ظاہر نہیں ہو سکتا۔جو چیز باہر آنی تھی وہ بسبب ناقابلیت کے نہیں آ سکتی یعنی تمہاری خلقت ایسی ہے کہ تم سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔تفسیر۔اِدّٰرَءْ تُمْ کی تشریح اِدّٰرَءْ تُمْ کے معنے اختلاف کرنے اور ایک دوسرے پر الزام لگانے کے ہوتے ہیں۔پس مطلب یہ ہے کہ یاد کرو۔جب تم نے ایک نفس کو قتل کیا اور پھر اُس میں اختلاف سے کام لیا۔کسی نے کہا فلاں شخص نے اس کو مارا ہے۔کسی نے کہا فلاں شخص نے مارا ہے یا یہ کہا کہ ہم نے نہیں مارا کسی اور نے مارا ہو گا یا یہ کہ اُس کے قتل کے بارہ میں کسی اور قسم کا کوئی اختلاف کیا یہ سب معنے اس آیت پر چسپاں ہو سکتے ہیں کیونکہ اِدَّارَءَ کے لفظ میں یہ ساری باتیں پائی جاتی ہیں۔قَتَلْتُمْ نَفْسًا کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قتل کرنے والی یہودی قوم تھی یا یہودی قوم قاتل کی پشت پر تھی تبھی فرمایا گیا کہ تم یہودیوں نے قتل کیا۔اگر یہ کوئی انفرادی واقعہ ہوتا تو پھر قوم کی طرف قتل کا فعل منسوب نہ کیا جاتا۔قتل