تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 181

کا جو رنگ بتایا گیا ہے وہ بھی اس امرکا ثبوت ہے کیونکہ بچھڑے کا بُت بھی انہوں نے سونے کا بنایا تھا جو زرد ہوتا ہے اوروہ بَیل جس کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس کا رنگ بھی زرد بتایا گیا ہے چنانچہ عربی زبان میں صَفْرَاءُ کے لفظ کے معنے جو لفظ کہ بَیل کے رنگ کے بتانے کے لئے قرآن کریم نے استعمال کیا ہے ذَھَبٌ۔یعنی سونے کے بھی ہیں۔(اقرب) پس بُت سونے سے تیار کرنا اور قربانی کے رنگ کا صَفْرَآءُ بتایا جانا بتاتا ہے کہ جس قسم کے بَیل کو یہود خدائی صفات سے متّصف سمجھتے تھے وہ سنہری رنگ کا ہوتا تھا۔بَیل کو سورج دیوتا کا مظہر قرار دے کر اس کی عبادت کرنے کا رواج اس امر کا ایک اَور زبردست قیاسی ثبوت بھی ہے کہ یہ بَیل جس کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا درحقیقت یہود کا مرکز عبادت بن رہا تھا یا بننے والا تھا اور وہ یہ کہ اس کا رنگ زرد بتایا گیا ہے اور جیسا کہ مَیں اوپر مصری تاریخوں کے حوالوںسے ثابت کر آیا ہوں بَیل جس جس مندر میں اُلوہیت کے مقام پر کھڑا کیا گیا تھا سُورج دیوتا کا مظہر قرار دے کر اسے پوجا گیا تھا۔ممفس میں اس کی پوجا فتاح کے نام پر کی جاتی تھی جو ’’رَا‘‘ یعنی سورج دیوتا کا باپ کہا جاتا تھا اور ہیلیوپولس اور ہرمانتھس دونوں مندروں میں اسے سُورج دیوتا کا مظہر بتایا جاتا ہے۔چونکہ سورج کا رنگ بھی سنہری ہوتا ہے اس لئے یہ امر کہ وہ بَیل گہرے زرد رنگ کا تھا اس بات پر زبردست دلالت کرتا ہے کہ یہود نے اسے سُورج دیوتا کا مظہر سمجھا تھا۔اس قیاس کی درستی کو اگر تسلیم کیا جائے تو بَیل کے رنگ کے متعلق جو دو مختلف الفاظ بائبل اور قرآن کریم میں استعمال کئے گئے ہیں ان کے بارہ میں بھی یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ قرآن کریم نے جو اس کی نسبت زرد کا لفظ استعمال کیا ہے وہ واقعات کے لحاظ سے زیادہ موزون ہے بہ نسبت سرخ کے لفظ کے جسے بائبل نے استعمال کیا ہے۔وَ مَا كَادُوْا يَفْعَلُوْنَ قریب تھا کہ وہ ایسا نہ کرتے یعنی اس بَیل کا ذبح کرنا اُن کے دل پر بہت گراں گزرا کیونکہ مصری اثر کے ماتحت وہ سمجھتے تھے کہ اس بَیل میں کچھ نہ کچھ خدائی ضرور ہے۔اﷲتعالیٰ کے احکام کیسے پُر حکمت ہوتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں میں بھی گائے کی قربانی کو رائج کر کے اس شرک کو ملیامیٹ کر دیا ہے جو دنیا میں آج بھی گائے کے متعلق پایا جاتا ہے گو افسوس کہ بغیر کسی دینی فائدہ کے مسلمان اِس حق کو چھوڑنے کے لئے آمادہ نظر آتے ہیں اور یا پھر خواہ مخواہ قربانی کی گائیوں اور بیلوں کا مظاہرہ کر کے اپنی ہمسایہ قوموں کے دلوں کو دکھاتے ہیں۔یہ دونوں باتیں ناجائز ہیں۔مومن کا کام اپنی اصلاح ہے۔ہمسایہ کو دُکھ دینا اس کے لئے جائز نہیں ہوتا۔بانی ٔ سِلسِلہ احمدیہ علیہ الصَّلٰوة وَالسَّلام نے کیا منصفانہ طریق اپنی ہمسایہ قوموں کے لئے پیش کیا۔وہ