تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 140

عَمِلَ صَالِحًا۔صَالِحٌ کے معنے وہ عمل جو فساد سے پاک ہو اور بامصلحت اور مناسب حال ہو۔صَلَحَ الشَّیْءُ کے معنے ہیں ضِدُّ فَسَدَ کوئی چیز فساد سے پاک ہو گئی نیز کہتے ہیں ھٰذَ ایَصْلُحُ لَکَ اَیْ مِنْ بَا بَتِکَ یعنی یہ تیرے مناسب حال ہے اور صَالَحَہٗ کے معنے ہیں وَافَقَہٗ اس سے موافقت کی۔اَلصَّالِـحُ کے معنے ہیں ضِدُّ الْفَاسِدِ فساد سے پاک وَالصَّلَاحِیَۃُ حَالَۃٌ یَکُوْنَ بِھَا الشَّیْ ءُ صَالِحًا وہ حالت جس سے کوئی چیز مناسب و موزوں ہو جائے (اقرب) پس صَالِحَاتٌ کے معنے ہوں گے وہ اعمال جو فساد سے پاک اور بامصلحت اور مناسب حال ہوں۔اَجْرُھُمْ۔اَ لْاَجْرُ۔اَلثَّوَابُ بدلہ (اقرب) اَ لْاَجْرُ وَ الْاُجْرَۃُ مَایَعُوْدُ مِنْ ثَوَابِ الْعَمَلِ دُنْیَوِیًّا کَانَ اَوْ اُخْرَوِیًّا جو کسی کام کا بدلہ ملتا ہے خواہ وہ دنیوی ہو یا اُخروی اُسے اَجْر کہتے ہیں۔(مفردات) رَبِّـھِمْ۔رَبٌّ کے معنی اِنْشَاءُ الشَّیْ ءِ حَالًا فَحَالًا اِلٰی حَدِّ التَّـمَامِ کے ہیں (مفردات امام راغب) یعنی کسی چیز کو پیدا کر کے تدریجی طور پر کمال تک پہنچانا۔خالی تربیت کے معنی بھی یہ دیتا ہے۔خصوصاً جبکہ انسان کی طرف منسوب ہو۔مثلاً قرآن کریم میں ماں باپ کی نسبت آتا ہے۔كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا (بنی اسرائیل :۲۵) یا اللہ میرے ماں باپ پر رحم فرما جس طرح انہوں نے اس وقت میری تربیت کی جبکہ میں چھوٹا تھا۔ربّ کے معنی مالک کے بھی ہوتے ہیں۔(اقرب) اسی طرح سردار اور مُطَاع کے بھی (اقرب) جیسے قرآن کریم میں حضرت یوسفؑ کا قول ہے اُذْكُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّكَ(یوسف:۴۳)اور مصلح کے بھی معنی ہیں (اقرب) ان معنوں میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہو سکتا ہے۔لیکن بغیر اضافت کے مطلق ربّ کا لفظ کبھی غیر اللہ کے لئے استعمال نہیں ہو سکتا۔مثلاً رَبُّ الدَّارِ۔گھر کا مالک یا رَبُّ الْفَرَسِ۔گھوڑے کا مالک تو انسان کو کہہ سکتے ہیں مگرجب خالی یہ کہیں کہ ربّ نے یوں کہا ہے یا کیا ہے تو اس کے معنے صرف اللہ تعالیٰ کے ہوںگے (مفردات ) ربّ کے معنے مفسرین نے خالق کے بھی کئے ہیں۔لَاخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔خَوْفٌ اور حُزْنٌ کے معنے مفصل طور پر حَلِّ لُغَات سورۂ بقرہ آیت نمبر ۳۹میں بتائے جا چکے ہیں۔خَوْف اور حُزْن میں یہ فرق ہے کہ خوف آئندہ زمانے کے متعلق ہوتا ہے اور حُزْن کسی واقعہ گزشتہ کی بناء پر ہوتا ہے اسی لئے ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ انہیں نہ تو ( مستقبل کے متعلّق) کسی قسم کا خوف ہو گا اور نہ (ماضی پر) وہ غمگین ہوں گے۔تفسیر۔یہود کا نام یہود رکھے جانے کی وجہ ھَادُوْا ھَادَ جیسا کہ لغت میں بتایا جا چکا ہے یہودی