تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 139
جائے (۲) اور پھر زبان سے اس کا اقرار کرتے ہوئے (۳) اعضاء سے اس کے مطابق عمل کا اظہار نہ کیا جائے اس وقت تک مومن کہلانا درست نہیں۔ھَادُوْا۔ھَادَ (یَھُوْدُ ھَوْدًا ) سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور ھَادَا الرَّجُلُ کے معنے ہیں تَابَ وَ رَجَعَ اِلَی الْحَقِّ ِّ اس نے توبہ کی اور حق کی طرف رجوع کیا۔چنانچہ جب کوئی شخص غلطی کر کے اس سے توبہ کرتا ہے اور اﷲ کی طرف رجوع کرتا ہے اس وقت کہتے ہیں ھَادَ الْمُذْنِبُ اِلَی اللہِ کہ قصور وار نے اﷲ کی طرف رجوع کیا۔نیز کہتے ہیں ھَادَالرَّجُلُ اور مطلب یہ ہوتا ہے دَخَلَ فِی الْیَھُوْدِیَّۃِ کہ فلاں شخص نے یہودی مذہب اختیار کر لیا جب ھَادَ فِی الْمَنْطِقِ کا فقرہ بولیں تو اس کے معنے ہوں گے اَدَّاہُ بِسَکُوْنٍ وَرِفْقٍ کہ اس نے نرمی سے کلام کیا۔ھَادَ سے اسم فاعل ھَائِدٌ بنے گا۔اور ھَائِدٌ کی جمع ھُوْدٌ ہو گی (اقرب) پس اَلَّذِیْنَ ھَادُوْا کے معنے ہوں گے وہ لوگ جنہوں نے یہودی مذہب اختیار کیا۔اَلنَّصَاریٰ۔تُبَّعُ الْمَسِیْحِ یعنی مسیح علیہ السلام کے پیروؤں کو نصاریٰ کہتے ہیں۔نَصَارٰی جمع ہے بعض نے اس کا مفرد نَصْرَانِیٌّ لکھا ہے۔یعنی ناصرہ بستی کی طرف منسوب ہونے والا۔بعض کا خیال ہے کہ نَصَارٰی نَصْرَانٌ کی جمع ہے ( یعنی نَصْرَان بستی کی طرف منسوب ہونے والا) اور بعض نے اس کو نَصْرِیٌّ کی جمع بتایا ہے یعنی نَصْرہ بستی کی طرف منسوب ہونے والا (اقرب) امام راغب کہتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ کے پیروؤں کا نام اس واسطے نصارٰی رکھا گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ان کو کہا کہ مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی ﷲِ کہ اﷲ کے کام میں میرا کون مددگار ہو گا تو انہوں نے جوابًا کہا نَحْنُ اَنْصَارُ ﷲِ یعنی ہم مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔چونکہ وہ مدد کے لئے تیار ہو گئے اس لئے اُن کو نَصَارٰی کہا گیا (مفردات) لیکن یہ معنے درست نہیں۔حق یہی ہے کہ نصرانی کا لفظ ناصرہ سے نکلا ہے دیکھو تفسیری نوٹ۔اَلصَّابِئِیْنَ۔اَلصَّابِئُوْنَ اور اَلصَّابِئِیْنَ صَابِیْ ءٌ کی جمع ہے جو صَبَأَ َٔ کا اسم فاعل ہے۔کہتے ہیں صَبَأَ الرَّجُلُ صَبْأً اور مراد یہ ہوتی ہے خَرَجَ مِنْ دِیْنٍ اِلٰی دِیْنٍ اٰخَرَ کہ اس نے ایک مذہب کو چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کر لیا (اقرب) نیز لکھا ہے اَلصَّابِئُوْنَ قَوْمٌ یَعْبُدُوْنَ النُّجُوْمَ وَ قِیْلَ قَوْمٌ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ عَلٰی دِیْنِ نُوْحٍ قِبْلَتُہُمْ مَھَبَّ الشَّمَالِ عِنْدَ مُنْتَصَفِ النَّھَارِکہ صَابِئُوْنَ ایک قوم ہے جو ستاروں کی پرستش کرتی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ صَابِئُوْنَ وہ لوگ ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے مذہب پر چلتے ہیں اور ان کا قبلہ بادِشمال کے چلنے کے رُخ پر ہے۔(اقرب)