تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 133

ظلم کو اختیار کر لیا۔(لسان) پس یَعْتَدُوْنَ کے معنے ہوں گے(۱) وہ حق سے تجاوز کرتے تھے (۲) وہ ظلم کرتے تھے۔تفسیر۔وَ اِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ میں بنی اسرائیل کی ایک اور ناشکری کا ذکر اس آیت میں بنی اسرائیل کی پھر ایک اور ناشکری کا ذکر کیا گیا ہے جو مَنّ وسَلْوٰی کے انعام کے متعلق معلوم ہوتی ہے۔ایک لمبے عرصہ تک بنی اسرائیل کو مَنّ و سَلْوٰی ملتا رہا۔کبھی کبھی درمیان میں شہروں میں جانے اور وہاں رہائش اختیار کرنے کا موقع بھی مِل جاتا تھا مگر معلوم ہوتا ہے وہ ایک ہی قسم کی غذا دیر تک کھانے کی برداشت نہ کر سکے گو حق یہ ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی نہ تھی اس میں بھی تنوّع موجود تھا مگر بنی اسرائیل مصر میں رہ کر شہری زندگی کے عادی ہو چکے تھے وہ بھنی ہوئی اور تلی ہوئی اور دم پخت چیزوں کے شوقین تھے پس وہ جنگلی غذاؤں پر مطمئن نہ تھے اور ان جنگلی غذاؤں کے پیچھے جو حکمت تھی اس کی قدر نہ کرتے تھے آخر ایک دن تنگ آ کر انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیا کہ اے موسیٰ ہم ایک قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے۔ہماری برداشت سے یہ بات بڑھ گئی ہے بیشک تجھ میں طاقت ہو گی کہ ایک قسم کے کھانے پر صبر کرے اور تجھے اس کے بدلنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی ہو گی مگر تو ہماری خاطر (یہ مفہوم اُدْعُ لَنَاکے الفاظ سے نکلتا ہے جس کے معنے ہیں خدا تعالیٰ سے ہماری خاطر دعا کر) اﷲ تعالیٰ سے دعا کر کہ وہ ہمارے لئے زمین کی ہر قسم کی ترکاریاں نکالے یعنی ہمیں کسی ایسی جگہ پر ٹِک کر رہنے کی اجازت دی جائے جہاں کھیتی باڑی ہو سکتی ہو اور ہر قسم کے غلّے اور دالیں اور ترکاریاں اور سبزیاں ہم کو میسر ہوں۔اﷲ تعالیٰ نے اس کے جواب میں ان سے فرمایا کہ کیا تم ایک بہتر چیز کے بدلہ میں ایک ادنیٰ چیز کو لینا چاہتے ہو۔عربی کا محاورہ ہے کہتے ہیں اِسْتَبْدَ لَہٗ بِہٖ: اَخَذَہٗ مَکَانَہٗ یعنی جس پر حرف ب آتا ہے وہ چیز چھوڑی جاتی ہے اور جو بغیر ب کے مفعول ہوتا ہے وہ لیا جاتا ہے پس اَتَسْتَبْدِ لُوْنَ الَّذِیْ ھُوَ اَدْنٰی بِالَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ کے معنے ہوں گے کہ خَیْر کو چھوڑ کر اَدْنٰی لینا چاہتے ہو۔اب رہا یہ سوال کہ خَیر کیا ہے اور اَدْنٰی کیا ہے۔بعضوں نے کہا ہے کہ خیر سے مراد گوشت ہے اور ادنیٰ سے مراد ترکاریاں ہیں لیکن یہ درست نہیں۔ترکاریاں بھی خیر ہیں اور گوشت بھی خیر ہے۔اور نہ شریعت کا یہ مسئلہ ہے کہ اگر کوئی اچھا کھانا مِلتا ہو تو دوسرا نہ کھاؤ۔بسا اوقات انسان کا دل پلاؤ کو نہیں کرتا دال کو کرتا ہے اور یہ بات خدا تعالیٰ کے عذاب یا اس کی ناراضگی کا موجب نہیں ہو سکتی۔حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ اُن غذاؤں کا جو جنگل میں بغیر محنت کے ملتی ہیں اُن غذاؤں سے مقابلہ کیا گیا ہے جو شہروں میں محنت و مشقت کے بعد ملتی ہیں۔بنی اسرائیل کو اﷲ تعالیٰ نے ان جنگلوں میں اس لئے رکھا تھا تا غلامی کا اثر دُور ہو جائے اور مصریوں کی صحبت میں جن گناہوں کی عادت انہیں