تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 134
پڑ گئی تھی ان کا ازالہ ہو جائے اسی طرح غیر قوموں سے مل کر اُن کے مشرکانہ جذبات بار بار نہ بھڑکتے رہیں۔بلکہ موسیٰ ؑ کی صحبت میں مستقل طور پر رہ کر توحید کو وہ اپنے اندر جذب کر لیں۔جنگل میں آخر وہی غذائیں مِل سکتی ہیں جو جنگل کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں وہ اﷲ تعالیٰ نے اُن کے لئے مہیّا کر دیں۔سبزیاں، ترکاریاں اور تمدّنی طور پر پکائے ہوئے کھانے تو آبادیوں سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور وہیں میسّر آ سکتے ہیں۔بنی اسرائیل کے مطالبہ سے بھی یہ مراد نہ تھی کہ اُن کو ککڑیاں اور ترکاریاں ملیں بلکہ اُن کا بھی یہ مطلب تھا کہ ہم کو آبادیوں میں رہنے کی اجازت دی جائے ہم اس بدوی زندگی سے تنگ آ گئے ہیں اور اﷲ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ کیا تم اچھی چیز کو چھوڑ کر ادنیٰ کو لینا چاہتے ہو تو اس سے بھی یہ مراد نہیں کہ ترنجبین یا شہد یا کھمبیوں یا بٹیروں کو چھوڑ کر تم گندم اور ترکاریوں کو کیوں لینا چاہتے ہو بلکہ اس سے بھی یہ مراد ہے کہ کیوں تم اس اچھی زندگی کو چھوڑ کر جو تمہیں حکومت اور آئندہ فاتحانہ زندگی بسر کرنے کے قابل بنا رہی ہے اس زندگی کو قبول کرنا چاہتے ہو جو تمہاری حیثیت کو معمولی زمینداروں کی حیثیت میں تبدیل کر دے گی۔تمہارا ایسا مطالبہ یا تو اِس وجہ سے ہے کہ تم بالکل کم عقل ہو اور اُس زندگی کی قدر کو نہیں سمجھتے جو خدا تمہیں دینے والا ہے اور یا پھر تم کو خدا تعالیٰ کے وعدوں پر ایمان نہیں۔تم سمجھتے ہو موسیٰ ؑ یونہی جھوٹ بول رہا ہے۔بادشاہت ہمیں کہاں ملنی ہے کیوں زمیندارے کی زندگی سے بھی محروم رہیں اور یہ دونوں باتیں چونکہ بے ایمانی اور دناء ت پر دلالت کرتی تھیں اس لئے اﷲ تعالیٰ نے ان کو ڈانٹا اور ان پر ناراضگی کا اظہار کیا۔بنی اسرائیل کے ایک کھانے پر تسلی نہ پانے کا ذکر بائبل میں بنی اسرائیل کا ایک کھانے پر تسلّی نہ پانے کا ذکر بائبل میں بھی موجود ہے چنانچہ گنتی باب ۱۱ آیت ۵ میں لکھا ہے۔’’ ہم کو وہ مچھلی یاد آتی ہے جو ہم مفت مصر میں کھاتے تھے اور وہ کھیرے اور وہ خربوزے اور وہ گندنا اور وہ پیاز اور وہ لہسن۔‘‘ اِھْبِطُوْا مِصْرًاسے مراد ملک مصر کا دارالخلافہ نہیں اِھْبِطُوْا مِصْرًا بعض مفسرّین نے ناواقفی سے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ مصر جو ملک مصر کا دارالخلافہ ہے اُس میں ان کو جانے کا حکم دیا گیا تھا اور عیسائی مصنّفین نے ان معنوں کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے اس پر خوب بغلیں بجائی ہیں اور قرآن کریم کی ناواقفیت پر ہنسی اُڑائی ہے حالانکہ ناواقف مفسرّین کا یہ بیان بھی غلط ہے اور معترضین کا یہ اعتراض بھی درست نہیں۔ملک مصر کا دارالخلافہ مصر تو غیر منصرف ہے یعنی اس پر تنوین نہیں آ سکتی چنانچہ قرآن کریم میں دیکھ لو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔اُدْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ ( یوسف :۱۰۰) اسی طرح فرماتا ہے۔اَلَيْسَ لِيْ مُلْكُ مِصْرَ(الزخرف :۵۲) لیکن اس آیت میں تو مِصْرًا