تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 132

یَقْتُلُوْنَ۔قَتَلَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور قَتَلَ کے معنے حَلِّ لُغَات سورۂ ہذا ۵۵ میں مندرجہ ذیل لکھے جا چکے ہیں (۱) کسی کو قتل کر دیا (۲) کسی سے قطع تعلق کر لیا (۳) کسی کو ذلیل کر دیا (۴) کسی کے کام کو باطل کرنے کی کوشش کی۔علاوہ ازیں کہتے ہیں ھُوَ قَاتِلُ الشَّتَوَاتِ اَیْ یُطْعِمُ فِیْھَا وَ یُدْفیئُ یعنی جب کسی کے متعلق قَاتِلُ الشَّتَوَاتِ کا فقرہ کہیں تو اس سے یہ مراد ہوگی کہ وہ غرباء کو سردیوں میں کپڑے اور کھانا کھلا کر سردی کے اثر سے بچاتا ہے(لسان) نیز کہتے ہیں قَتَلَہٗ اور مطلب ہوتا ہے اَصَابَ قَتَالَہٗ کہ اس کے جسم کو چھوا یعنی مارا (مفردات) پس يَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ کے معنی ہوںگے (۱) انہوں نے نبیوں کو مارا(۲) ان سے بے تعلقی کا برتاؤ کیا (۳) ان کے کام کو باطل کرنے کی کوشش کی (۴) نبیوں کو ذلیل کرنے کی کوشش کی۔الْـحَقُّ۔حَقَّہٗ (یَحُقُّ) حَقًّاکے معنی ہیں غَلَبَہٗ عَلَی الْحَقِّ اس پر حق میں غالب آیا۔راستی میں غالب آیا۔اور حَقَّ الْاَمْرَ کے معنے ہیں اَثْبَتَہٗ وَ اَوْجَبَہٗ کسی امر کو ثابت کیا اور اس کو لازم کیا۔وَکَانَ عَلٰی یَقِیْنٍ مِنْہُ کسی معاملہ کے متعلق یقینی خبر معلوم کر لی اور جب حَقَّ الْخَبْرَ کہیں تو اس وقت معنے ہوں گے وَقَفَ عَلٰی حَقِیْقَتِہٖ خبر کی حقیقت کو معلوم کر لیا اور حَقَّ الْاَمْرُ کے معنے ہیں وَجَبَ وَ ثَبَتَ کوئی امر ثابت ہو گیا اور واجب ہو گیا۔اَلْحَقُّ ضِدُّ الْبَاطِلِ جھوٹ کے خلاف چیز یعنی سچ۔اَ لْاَمْرُ المَقْضِیُّ ہو کر رہنے والی بات۔اَلْعَدْلُ انصاف۔اَ لْمِلْکُ مالکیّت۔اَ لْمَوْجُوْدُ ، اَلثَّابِتُ یعنی ثابت رہنے والی چیز۔اَلْیَقِیْنُ بَعْدَ الشَّکِّ شک کے بعد یقین کا آنا۔(اقرب) امام راغب کہتے ہیں کہ اَلْحَقُّ کا مفہوم کئی طرح ادا کیا جاتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے۔یُقَالُ فِی الْفِعْلِ وَالْقَوْلِ الْوَاقِعِ بِحَسْبِ مایَجِبُ وَفِی الْوَقْتِ الَّذِیْ یَجِبُ کہ کسی فعل یا بات کا بامحل۔مناسب حال اور باموقع کرنے کا نام اَلْحَقُّ ہے۔(مفردات) عَصَوْا۔عَصَـٰی سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور عَصَاہُ (یَعْصِیْہِ) کے معنے ہیں خَرَجَ عَنْ طَاعَتِہٖ وَ خَالَفَ اَمْرَہٗ وَ عَانَدَہٗ اس کی اطاعت سے نکل گیا اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کی اور اس کی دشمنی کی ٹھان لی (اقرب) پس عَصَوْا کے معنے ہوں گے انہوں نے نافرمانی کی۔اطاعت سے نکل گئے۔یَعْتَدُوْنَ۔اِعْتَدَیٰ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اِعْتَدَیٰ عَلَیْہِ کے معنے ہیں ظَلَمَہٗ اس پر ظلم کیا۔(اقرب) اَ لْاِعْتِدَاءُ۔مُجَاوَزَۃُ الْحَقِِّّ یعنی اپنے حق سے تجاوز کرنے کا نام اِعْتَدَاء ہے۔(مفردات) لسان میں ہے اَ لْاِعْتِدَاءُ اور اَلتَّعَدِّیْ اور اَلْعُدْوَانُ کے معنے ہیں اَلظُّلْمُ ظلم اور جب اِعْتَدَیٰ فَـلَانٌ عَنِ الْحَقِّ یا اِعْتَدَیٰ فَوْقَ الْحَقِّ کہیں تو اس کے معنے ہوں گے جَاوَزَ عَنِ الْحَقِّ اِلَی الظُّلْمِ کہ حق سے تجاوز کرتے ہوئے