تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 124
ہے کہ معمولی سوٹی مارنے سے ہی وہاں سے پانی نکل آتا ہے اور ایسے چشمے صرف پہاڑوں پر ہی نہیں پائے جاتے، بعض دفعہ بیابانوں میں بھی خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ بعض طبعی قانونوں کے ماتحت سطح زمین کے قریب پانی آئے ہوئے ہوتے ہیں چنانچہ عرب کے ریگستانوں میں بہت سی جگہیں ایسی ہیں جہاں چھوٹے چھوٹے نخلستان اور چشمے پائے جاتے ہیں۔اُن پانی کی جگہوں کو جغرافیہ والوں کی اصطلاح میں اوسِس (Oasis) کہتے ہیں۔اِسی طرح کے کسی مقام کے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے الہام سے خبر دے دی۔جہاں پانی سب سے زیادہ سطح زمین کے قریب تھا اس کے اوپر ایک پتھر پڑا ہوا تھا۔اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اس پتھر کو توڑ دو۔اس کے نیچے سے پانی نکل آئے گا چنانچہ اُنہوں نے پتھر توڑ دیا اور پانی نکل آیا۔معجزہ نہ اس میں ہے کہ پتھر میں سے پانی نکلا۔نہ اِس میں ہے کہ نئے سرے سے پانی پیدا کیا گیا۔معجزہ اس امر میں ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو الہام کے ساتھ خبر دی کہ فلاں پتھر کے نیچے پانی موجود ہے پس نہ تو اس واقعہ کے انکار کرنے کی کوئی وجہ ہے اور نہ قانونِ قدرت کے خلاف شکل دینے کی کوئی وجہ ہے۔پانی اُس جگہ پر قانونِ قدرت کے مطابق موجود تھا مگر انسان نہیں جانتے تھے کہ اس جگہ پر پانی موجود ہے صرف خدا کو معلوم تھا کہ یہاں پانی موجود ہے اور اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندے موسیٰ ؑ کو اس بات کا علم دیا اور موسیٰ ؑ کے پتھر توڑ دینے سے چشمے کا پانی جو پتھر کی وجہ سے بند تھا باہر کی طرف بہہ پڑا اور اﷲ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ وہ پتھر جو معلوم ہوتا ہے بہت ہی چھوٹی گہرائی کا تھا سونٹے کی ضرب سے بارہ جگہ سے ٹوٹا اور بارہ ہی اس میں سے چشمے پھوٹ پڑے۔پہاڑوں پر جانے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ ایک ایک جگہ سے بعض دفعہ متعدد چشمے پھوٹتے ہیں۔کشمیر میں ایک جگہ ککڑناگ ہے جو جہلم کے منبع سے کوئی پندرہ سولہ میل کے فاصلہ پر ہے اور اسلام آباد کے شہر کے اوپر آٹھ دس میل پر ہے اس جگہ پر مَیں نے خود ایک چند گز کی جگہ کے اندر سے بہت سے چشمے پھوٹے ہوئے دیکھے جن کی تعداد غالباً درجن سے زیادہ تھی۔موسیٰ علیہ السلام کے پتھر پر عصا مارنے سے بارہ چشموں کے پھوٹنے کی وجہ بارہ چشمے پھوڑنے کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل کے کئی قبائل تھے اور وہ آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ہر ایک کے لئے الگ الگ پانی میسّر آ گیا یا ہو سکتا ہے کہ بارہ چشموں کا پھوٹنا ایک اتفاقی امر ہو اور بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کو مدّنظر رکھ کر ایسا نہ ہوا ہو۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کا ذکر محض اس لئے کر دیا کہ وافر پانی مل گیا اور بنی اسرائیل نے بغیر تکلیف کے پی لیا۔ایک سیاح کی شہادت کہ حوُرب کی چٹان پر بارہ چشموں کا نشان ملتا تھا اس جگہ اس امر کا ذکر کر دینا