تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 123
طرف سے بادل نازل نہیں کئے جاتے تھے۔بادلوں کے علاقہ کو وہ پیچھے چھوڑ آئے تھے) موسیٰ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ سے پانی کے لئے دعا کی اور انہیں حکم ہوا کہ فلاں پتھر کو اپنے سونٹے سے مارو۔انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس پتھر میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور ہر ایک جماعت نے اپنے لئے ایک گھاٹ تجویز کر لی۔پادری صاحبان کا آیت اِذِ اسْتَسْقٰى پر اعتراض کہ ایسا واقعہ بائبل میں مذکور نہیں پادری صاحبان اس آیت پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسا کوئی واقعہ بائبل میں مذکور نہیں مگر جیسا کہ میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں بائبل میں کسی واقعہ کا بیان ہونا یا نہ ہونا یہ کوئی اہم بات نہیں۔بیشک ایک مؤرّخ مجبور ہے کہ وہ انہی واقعات کو بیان کرے جو بائبل میں یا دوسری تاریخوں میں بنی اسرائیل کے متعلق مذکور ہیں لیکن جو کلام اس بات کا مدّعی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے وہ اس بات پر مجبور نہیں ہے کہ وہ بائبل یا تاریخ کے حوالوں کو بیان کرے۔جو باتیں بائبل اور تاریخ میں بیان ہوئی ہیں کیا ان کے سوا دنیا میں اور کوئی واقعہ نہیں ہوا اور کیا پھر ایسے واقعات کو بیان کرنا خدا تعالیٰ کے لئے ممنوع ہے۔قرآن خدا کی کتاب ہے اور خدا تعالیٰ کے علم کو تاریخ دانوں کا علم نہیں پہنچ سکتا۔قرآن کا مُنکر ہم سے اس بات کا مطالبہ تو کر سکتا ہے کہ ثابت کرو قرآن خدا کی کتاب ہے لیکن جب ہم ثابت کر دیں کہ قرآن خدا کی کتاب ہے تو اِس کے بعد قرآن کی گواہی ہر مؤرّخ کی گواہی سے اور ہر منسوخ یا ممسوخ کتاب کی گواہی سے یقیناً زیادہ معتبر سمجھی جائے گی مگر اس کے یہ بھی معنے نہیں کہ ہم قرآن کریم کے الفاظ کے وہ معنے کریں جو قرآن کریم کے رُو سے ناجائز ہوں یا خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ عقل کے خلاف ہوں یا لغت کے خلاف ہوں۔بعض مفسرین کا اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى کی تفسیر میں غلطی کرنا اس آیت پر جہاں پادریوں نے یہ غلط اعتراض کیا ہے کہ چونکہ یہ واقعہ بائبل میں بیان نہیں اس لئے اسے درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔وہاں ہمارے بعض مفسّروں نے بھی اس میں غلطی کی ہے چنانچہ انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک چھوٹا سا پتھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اُٹھائے پھر تے تھے اور جہاں ضرورت ہوتی تھی وہ اس پتھر کو مار کر اس میں سے بارہ چشمے پھوڑ لیا کرتے تھے یہ معجزہ نہیں یہ تو ایک تمسخر ہے۔جب خدا تعالیٰ ایک علاقہ میں بادل لایا تھا اور دوسرے علاقہ میں اُس نے ایک پتھر پر سونٹا مارنے کا حکم دیا تو یہ معجزہ بھی خدا تعالیٰ کے طبعی قانون کے مطابق ہی ہونا چاہیے اس آیت کے صرف اتنے معنے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک پتھر پر سونٹا مارنے کا حکم دیا گیا۔اس سونٹے کے مارنے سے وہ پتھر ٹوٹ گیا اور اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے جن لوگوں کو پہاڑوں پر جانے کا موقع ملا ہے وہ جانتے ہیں کہ بعض جگہ پر پہاڑوں کی چوٹیوں کا برفوں کا پانی جو کہ زمین کی سطح کے نیچے بہہ رہا ہوتا ہے بعض دفعہ سطح زمین کے اتنے قریب آ جاتا