تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 125

بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سیل اپنے ترجمۂ قرآن کے نوٹوں میں لکھتا ہے کہ پندرھویں صدی کے ایک سیاحؔ نے شہادت دی ہے کہ حُورب کی ایک چٹان میں سے اُس وقت بارہ چشموں کا نشان ملتا تھا گو وہ سارے چلتے نہ تھے۔(القرآن مصنّفہ سیل صفحہ۸۔Al-Quran by Sale Page 8) اس شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقہ میں بعض چٹانوں پر سے بارہ چشمے کسی زمانہ میں پھوٹا کرتے تھے۔خروج باب ۱۷ میں حورب کی چٹان پر پانی کے لئے سونٹا مارنے کا حکم ثابت ہوتا ہے لیکن بارہ چشموں کا ذکر نہیں ملتا (آیت ۶) ہاں ایلیم ایک جگہ ہے جہاں بارہ چشموں کا ذکر ہے مگر وہاں سونٹا مارنے کا ذکر نہیں (خروج باب ۱۵ آیت ۲۷) لیکن جیسا کہ مَیں بتا چکا ہوں اِس بارہ میں بائبل کی شہادت کو زیادہ وقعت نہیں دی جا سکتی۔بہر حال پندرھویں صدی کے ایک عیسائی سیّاح کی شہادت کہ حوُرب کی چٹان پر بھی بارہ چشمے پائے جاتے تھے کم سے کم عیسائی معترضین کا مونہہ بند کر دینے کے لئے کافی ہے۔قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْ سے مراد قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْ سے یہ مراد نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الگ الگ پانی الگ الگ قوم کے لئے مقرّر کیا گیا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہر قوم نے اپنے لئے الگ جگہ مقرر کر لی یعنی پانی اتنی کثرت سے تھا اور اتنی متفرق جگہوں سے پھوٹا تھا کہ بنی اسرائیل کو پانی ملنے میں کوئی تکلیف نہ ہوئی اور آپس میں کوئی جھگڑا پیدا نہ ہوا بلکہ ہر قوم آسانی سے اپنے لئے الگ گھاٹ تجویز کر کے اس سے پانی پینے لگ گئی۔کُلُّ اُنَاسٍ کے معنے ہر ایک قوم یا ہر ایک گروہ کے ہیں۔ہر انسان اس کے معنے نہیں۔كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ سے یہ بتایا ہے کہ دیکھو اﷲ تعالیٰ تمہارے لئے ہر جگہ کھانے اور پینے کی چیزیں مہیّا کر رہا ہے۔تم اس کے احسان کی قدر کرو، اس پر تو ّکل کرو اور اپنی نظر اسباب پر نہ رکھو۔جتنے فساد دنیا میں پیدا ہوتے ہیں اسباب کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔کسی زمین یا کسی مکان یا کسی جانور یا کسی دھات کے متعلق انسان یہ سمجھتا ہے کہ اگر مجھے نہ ملی تو میرا نقصان ہو گا اور وہ اپنے بھائی سے لڑ پڑتا ہے اور فساد کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم نے اس وقت کے بنی اسرائیل سے کہا کہ دیکھو ہم نے تمہیں ان سب جھگڑوں سے آزاد کر دیا۔نہ تمہیں کھانے کے لئے تلاش اور محنت کرنی پڑتی ہے، نہ تمہیں پانی کے لئے تلاش اور محنت کی ضرورت پیش آتی ہے پس جب ہم تمہاری سب ضروریات خود پورا کر رہے ہیں تو فساد کی کوئی وجہ نہیں۔اب بھائی کو بھائی سے کیوں بغض ہو اور ہمسایہ ہمسایہ سے کیوں لڑے پس کم سے کم اِن ایّام میں تو تمہیں کوئی فساد نہیں کرنا چاہیے اور پھر ان ایاّم کی نعمتوں کو یاد رکھتے ہوئے تمہیں آئندہ بھی فساد نہیں کرنا چاہیے۔