تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 118

قرآن مجید کی آیتوں اور احادیث کو ہنسی اور تمسخر کے موقع پر استعمال کرنے کے متعلق نصیحت آج مسلمانوں کی بھی یہی کیفیّت ہے جو بے دین ہیں وہ تو بے دین ہیں ہی مگر جو دیندار کہلاتے ہیں علماء ہیں یا صوفیاء ہیں وہ بھی دین کی باتوں سے تمسخر کر لیتے ہیں۔کہیں بے موقع قرآن کی آیت پڑھ دیں گے، کہیں ہنسی کے مواقع پر حدیث نبوی ؐپڑھ دیںگے حالانکہ اﷲ اور اس کے رسول کا مقام بہت بالا ہے۔اُن کی باتوں کو ہنسی اور تمسخر کے موقع پر بیان کرنا نہایت خطرناک بات ہے۔یہ چیز دل کو سیاہ کر دیتی، روحانیت کو مار دیتی اور تقویٰ کو کچل دیتی ہے۔اس گناہ پر غالب آنے کے لئے کسی بڑی محنت کی بھی ضرورت نہیں۔کسی لالچ کو دبانے کا یہاں سوال نہیں۔ایک معمولی سی توجہ کی ضرورت ہے۔جن لوگوں میں یہ مرض پائی جاتی ہے وہ ایک ذرا سی توجہ سے اِس نقص کو دُور کر سکتے ہیں اور تھوڑی سی محنت کے ساتھ دل کی ایک ایسی اصلاح کر سکتے ہیں جو ان کو بڑے بڑے کاموں کے لئے تیار کر دے۔پس خدا کی باتوں اور اس کے رسول کی باتوںمیں ہنسی اور مذاق کوبالکل چھوڑ دو۔یہ گناہ بے لذّت ہے اور انسانی دل کو بالکل مردہ کر دیتا ہے۔خدا اور اس کے رسول کا ذکر جب بھی آئے اس کے ساتھ دل میں خشیت پیدا ہونی چاہیے جس سے محبت ہوتی ہے اُس کا ذکر کبھی بھی توجہ کھینچے بغیر نہیں رہتا۔اپنے ماں باپ سے کوئی شخص تمسخر نہیں کرتا۔اپنے ماں باپ کی باتوں سے کوئی شخص تمسخر نہیں کرتا پھر کیوں خدا اور رسول کی باتوں کو ہنسی کے مواقع پر استعمال کیا جائے کیوں خدا اور رسول کے نام کو تمسخر کے طور پر استعمال کیا جائےاور ایک سکینڈ کے مذاق کے لئے عمر بھر کی عبادت کو ضائع کر دیا جائے۔اَلْحَذَرْ ثُمَّ الْحَذَرْ۔رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ میں رِجْز سے مراد طاعون یا اَولے رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ۔عذاب تو جو پیدا ہوا زمین سے ہی پیدا ہوا مگر کہا یہ گیا ہے کہ آسمان سے نازل کیا۔یہ الفاظ اُن الفاظ سے بہت زیادہ زبردست ہیں جو مسیح ؑ کے نزول کے متعلق احادیث میں آئے ہیں کیونکہ مسیح موعود کے متعلق کسی بھی صحیح حدیث میں یہ نہیں آتا کہ وہ آسمان سے نازل ہو گا بلکہ صرف نازل ہونے کے الفاظ ہیں مگر یہاں تو اس عذاب کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوا اورر جز سے صحابہؓ اور دیگر اَئمہ نے عام عذاب یا طاعون یا اَولوں کا عذاب مراد لیا ہے چنانچہ شعبی کا قول ہے۔اَلرِّجْزُاِمَّا الطَّاعُوْنُ وَ اِمَّا الْبَرَدُ۔رِجْز یا طاعون کو کہتے ہیں یا اَولوں کے عذاب کو کہتے ہیں۔اور سعید بن جبیر جو مشہور مفسّرِ قرآن ہیںکہتے ہیں ھُوَ الطَّاعُوْنُ اس سے مراد طاعون ہے اور ابن ابی حاتم نے سعدبن مالکؓ۔اسامہ بن زیدؓ اور خزُیمہ بن ثابتؓتین صحابہ ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوںنے کہا رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اَلطَّاعُوْنُ رِجْزٌ طاعون ہی رجز ہے اور ابنِ جریرؓ نے بھی اسامہ بن زیدؓ سے روایت