تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 117

الْعَقْلُ وَاقْتَضَتْہُ الْفِطْرَۃُ اور جب شریعت کے احکام کے منکر کے لئے فاسق کا لفظ استعمال کریں تو یہ مفہوم مدِّنظر ہو گا کہ اس نے ان احکام کو چھوڑ دیا اور ان کے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جن کو عقل لینے کا فتویٰ دیتی تھی اور جن کو تسلیم کرنے کا فطرت تقاضا کرتی تھی۔(مفردات) پس فَاسِقٌ کے معنی ہوئے (۱) نافرمان (۲) خدا تعالیٰ کے حکم کو ترک اور ردّ کرنے والا (۳) حق کو قبول کر کے پھر اُسے ترک کر دینے والا۔تفسیر۔بنی اسرائیل کا خدا تعالیٰ کے حکم قُوْلُوْا حِطَّۃٌ کے ساتھ تمسخر کرنا اور اس کا نتیجہ فرماتا ہے دیکھو تم نے ہمارے اس انعام کی بھی ناقدری کی۔ہم نے تو یہ چاہا تھا کہ تم کچھ دن اپنی تھکان دور کر لو اور تمدّنی زندگی کا لُطف اُٹھا لو لیکن تم نے اس احسان کے ساتھ بھی تمسخر کرنا شروع کر دیا اور ایک ایسی بات کہنی شروع کر دی جو تمہیں نہیں کہی گئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ انہوں نے حِطَّۃٌ کہنے کی بجائے جس کے معنے تھے کہ ہمارے گناہ بخش دیئے جائیں حِنْطَۃٌ۔حِنْطَۃٌ کہنا شروع کر دیا یعنی ہمیں گندم مل جائے۔گندم مل جائے ( یہ مراد نہیں کہ حِنْطَۃٌ کالفظ استعمال کیا۔بلکہ جو عبرانی لفظ بھی گندم کے لئے ہے خواہ حِنْطَۃٌ ہو یا کوئی اور ہو وہ استعمال کیا) شہر کے اندر داخل ہونے کے خیال نے ان کے اندر گندم کے گرم گرم نانوں کی حرص پیدا کر دی اور گناہوں کی معافی کا خیال جاتا رہا اور مذاقًا انہوں نے حِنْطَۃٌ حِنْطَۃٌ کہنا شروع کر دیا کہ خدایا ہمیں گندم دلادے۔فرماتا ہے اس کی وجہ سے اُ ن پر عذاب نازل ہوا کیونکہ انہوں نے تمسخر سے کام لیا اور اﷲ تعالیٰ سے احکام کی نافرمانی کی۔دیکھو کتنی چھوٹی سی بات ہے مگر خدا تعالیٰ کے غضب کا موجب ہو گئی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نیکی میں انسان صرف سنجیدگی کی وجہ سے ترقی کر سکتا ہے۔انسان کتنی ہی عبادتیںکرے، کتنی ہی قومی خدمت بجا لائے لیکن اس کے اندر سنجیدگی نہ ہو تو وہ کبھی بھی روحانی ترقی نہیں کر سکتا اور نہ قوم کے لئے صحیح طور پر مفید ہو سکتا ہے بلکہ ایسے غیر سنجیدہ لوگ بعض دفعہ قوم کو خطرناک تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیتے ہیں۔بظاہر حِطَّۃٌ کو حِنْطَۃٌ کہہ دینا ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن اگر غور کرو تو نہایت اہم بات ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے کلام کے ساتھ تمسخر کیا گیاہے۔اس قسم کا تمسخر وہی شخص کر سکتا ہے جس کے دل میں سنجیدگی نہ ہو اور جس کے دل میں سنجیدگی نہیں نہ وہ دین کے لئے مفید ہو سکتا ہے اور نہ دنیا کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔چھوٹے چھوٹے اشتعال کے مواقع، چھوٹی چھوٹی حرص کے مواقع ایسے آدمیوں کو ملّت اور مُلک سے غدّاری کرنے پر آمادہ کر دیتے ہیں۔