تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 119

کی ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔اِنَّ ھٰذَا الْوَجْعُ وَ السُّقْمُ رِجْزٌ عُذِّ بَ بِہٖ بَعْضُ الْاُمَمِ قَبْلَکُمْ (ابن کثیرزیر آیت ھذا ) یعنی یہ درد اور بیماری ( طاعون) رِجز ہے جس کے ذریعہ سے تم سے بعض پہلی قوموں کو عذاب دیا گیا۔عذاب کے ساتھ لفظ نزول لگانے کی وجہ حالانکہ عذاب تو مادی بیماری سے تھا اب ہم دیکھتے ہیں کہ طاعون تو ایک مادی بیماری ہے۔گلٹی جسم میں نکلتی ہے بخار جسم کو چڑھتا ہے اور اسکے سامان اسی طرح اس دنیا میں پیدا ہوتے ہیں جس طرح اور بیماریوں اور چیزوں کے اسباب اس دنیا میں پیدا ہوتے ہیں مگر پھر بھی اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے آسمان سے ان کے لئے رِجز اُتارا۔اگر کہا جائے کہ چونکہ طاعون کا حکم خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے اس لئے طاعون کی نسبت یہ کہا گیاکہ وہ آسمان سے اُتاری گئی تو میں کہتا ہوں کہ یہی مسیح کا حال سمجھنا چاہیے۔کیا طاعون کا حکم آسمان سے اُترتا ہے لیکن جس شخص کو مامور کیا جاتا ہے اس کا حکم آسمان سے نہیں اُترتا۔پس اگر طاعون آسمان سے اُتری ہوئی کہلا سکتی ہے تو کیا خدا تعالیٰ کے مامور آسمان سے اُترے ہوئے نہیں کہلا سکتے باوجود اس کے کہ وہ زمین پر پیدا ہوں۔وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ اور( اس وقت کو بھی یاد کرو جب) موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے (اسے) کہا کہ اپنا سونٹا فلاں پتھر الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ پر مار۔اس پر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے(اور) ہر ایک گروہ نے اپنی اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا گھاٹ کو پہچان لیا (تب انہیں کہا گیا کہ) اللہ کے رزق میں سے کھاؤ اور پیو اور تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۰۰۶۱ مفسد بن کر زمین میں خرابی نہ پیدا کرو۔حَلّ لُغَات۔اِسْتَسْقٰی۔سَقٰی (یَسْقِیْ) سے باب اِستفعال کا ماضی کا صیغہ ہے اور اِسْتَسْقَی