تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 106

ترنجبین بھی مَنّ کی قسموں میں ہے۔اسی طرح بیریا پیلو وغیرہ یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو کھانے کے کام میں آسکتی ہیں۔پیٹ بھرتی ہیں۔غذائیت کا کام دیتی ہیں۔جہاں جہاں پائی جاتی ہیں کثرت سے مِل جاتی ہیں اور جنگلوں میں چلنے والے قافلے بعض دفعہ ہفتوں ان پر گزارہ کرتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کی ہجرت کے سالوں میں اﷲ تعالیٰ نے کثرت سے یہ اشیاء جنگل میں پیدا کر دی تھیں جن کو بنی اسرائیل کھاتے تھے اور پیٹ بھر لیتے تھے۔اسی طرح آٹا اور چاول وغیرہ جو خرید کرنے والی اشیاء ہیں ان کی اُنہیں بہت کم ضرورت پیش آتی تھی۔سَلْوٰی۔بنی اسرائیل کو سلوٰی ملنے سے مراد سَلْوٰی کے معنے بھی مَنّ کی طرح ایک عام ہیں اور ایک خاص۔اس کے عام معنے تو ہر اُس چیز کے ہیں جو تسلّی دینے والی ہو اور خاص معنوں کے لحاظ سے وہ ایک پرندے کا بھی نام ہے جو بٹیر کے مشابہ ہوتا ہے اور شہد کو بھی سلویٰ کہتے ہیں۔بائبل میں اس کا ذکر گنتی باب ۱۱ آیت ۳۱ تا ۳۴ میں آتا ہے۔وہاں لکھا ہے۔’’ تب خداوند کی طرف سے ایک ہوا اُٹھی اور دریا سے بٹیر اُڑا لائی اور انہیں خیمہ گاہ پر اور خیمہ گاہ کے گِرد اگر د اِدھر اُدھر ایک دن کی راہ تک پھیلایا۔ایسا کہ وہ زمین پردو ہاتھ بلند ہوا تب لوگ اُس سارے دن اور اُس ساری رات اور اس کے دوسرے دن بھی کھڑے رہے اور بٹیر جمع کیاکئے اور جس نے کم سے کم جمع کئے دس خومر (نصف من ) تھے اور انہوں نے اپنے لئے خیمہ گاہ کے آس پاس اُنہیں پھیلا دیا اور ہنوز اُن کے دانتوں تلے گوشت تھا پہلے اس سے کہ وَے اُسے چابیں خداوند کا غصّہ ان لوگوں پر بھڑکا اور خداوند نے ان لوگوں کو بڑی مری سے مارا اور اُس نے اس مقام کا نام قَبَرَاتُ التَّہَا وَہ (حرص کی قبریں) ر کھا کیونکہ انہوں نے اُن لوگوں کو جنہوں نے حرص کی تھی وہیں گاڑا۔‘‘ چونکہ بنی اسرائیل مدتوں تک فراعنۂ مصر کی غلامی میں رہے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے چاہا کہ انہیں جنگل میں آزاد رکھ کر اُن میں جرأت اور بہادری کے اخلاق پیدا کرے۔اس لئے بجائے جلد سے جلد کنعان پہنچانے کے اُن کو ایک عرصہ تک دشتِ سینا اور اس کے اِرد گرد کے علاقہ میں رکھا اور اُن کے لئے ایسی غذائیں جو بلا تعب اور بغیر محنت کے ملتی تھیں مہیا فرما دیں۔کچھ شیریں، کچھ نمکیں، کچھ ٹھوس، کچھ ہلکی، کچھ پکانے والی، کچھ کچی کھانے والی تاکہ ذوق کو بھی ان سے تسلّی حاصل ہو اور معدہ بھی بھرے اور صحت کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی پوری طرح میسّر آ جائیں۔جیسا کہ مَیں بیان کر چکا ہوں مَنّ میں پھل ، کھمبیاں اور ترنجبین وغیرہ شامِل ہیں۔اور سَلْویٰ میں پرندے۔شہد اور وہ تمام ایسی غذائیں جو کہ قلب کو تسکین دیتی ہیں شامل ہیں۔پس بادل نازل کر کے پانی مہیّا فرما دیا