تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 107
گیا۔مَنّ نازل کر کے پھل اور سبزی ترکاری کی قسم کی غذائیں مہیّا کر دی گئیں اور سَلْوٰی نازل کر کے اﷲ تعالیٰ نے گوشت کی ضرورت کو مہیّا کر دیا۔منّ و سلوٰی کے دیئے جانے کے ساتھ لفظ نزول کا استعمال اور ایک مشکل کا حل یہاں اَنْزَلْنَا کا لفظ بھی غور کے قابل ہے۔نُزُوْل کا لفظ اعزازو احترام کے لئے یا غیر معمولی حالات کے مطابق کسی چیز کے مہیّا کرنے کے لئے بولا جاتا ہے۔مَنّ اور سَلْویٰ آسمان سے نہیں اُترتے تھے۔زمین کی ہی چیزیں تھیں اور زمین پر ہی پیدا ہوتی رہتی تھیں۔ان کے لئے نزول کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ غیر معمولی حالات میں اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے یہ چیزیں مہیّا کر دی تھیں۔جو لوگ آنے والے مسیحؑ کے متعلق نزول کے الفاظ پڑھ کر قسم قسم کی غلطیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اُنہیں قرآن کریم کے یہ محاورات بھی مدّنظر رکھنے چاہئیں۔اگر زمین میں پیدا ہو کر مَنّ و سَلوٰی کے لئے نزول کا لفظ آ سکتا ہے تو زمین میں ہی پیدا ہو کر مسیح کے لئے نزول کا لفظ کیوں نہیں آسکتا۔جس طرح مَنّ و سَلوٰی کا غیر معمولی حالات میں مہیّا کر دینا قرآنی اصطلاح میں نزول کہلایا ہے اسی طرح فسق و فجور کے زمانہ میں ایک پاکیزہ نفس مصلح کا پیدا ہو جانا خدائی اصطلاح میں نزول کہلاتا ہے اور مسیح موعودؑ کے لئے بھی انہی معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے۔كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ۔جو کچھ ہم نے تمہیں طیّبات میں سے دیا ہے اسے کھاؤ یعنی اِس زمانہ میں یہ غذائیں تمہارے لئے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی ہیں۔ان کے استعمال سے وہ تمام ضرورتیں جو تمہیں لاحق ہیں پوری ہو جائیںگی۔كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ … الخ میں طیّب کے معنے طَیّب کے معنے لذیذ ، پاکیزہ، خوبصورت، میٹھے اور شاندار کے ہوتے ہیں پس کُلُوْا مِنْ طَیّبٰتِ مَارَزَقْنٰـکُمْ کے معنے یہ ہوئے کہ یہ چیزیںاس وقت تمہاری لذّت کے سامان بھی مہیّا کرتی ہیں، تمہارے اخلاق کی درستی کا موجب بھی ہیں۔ظاہری شکلوں میں بھی وہ اچھے کھانے ہیں۔شیریں و لطیف بھی ہیں اور اپنے فوائد کی عظمت کے لحاظ سے بھی نہایت اعلیٰ درجہ کی ہیں پس تم ان کو کھاؤ اور اخلاقِ حسنہ پیدا کر کے اُس عظیم الشّان کام کے لئے تیار ہو جاؤ جو تمہارے لئے مقدّر ہے۔مَنّ و سَلوٰی کے بطور انعام ملنے کے متعلق بائبل اور قرآن مجید کا اختلاف اس آیت سے یہ مراد نہیں کہ مَنّ اور سَلْوٰی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو ملے تھے پس وہی طیباّت ہیں بلکہ مدحیہ الفاظ ہوں یا ذمّ کے الفاظ سب کے سب نسبتی ہوتے ہیں۔ایک ہی چیز ایک وقت میں اچھی ہوتی ہے یا ایک شخص کے لئے