تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 105
مصنوعی ہوتی ہے۔اصل مَنّ دشتِ سیناء۔شام اور عراق کے بعض علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ابھی کچھ دن ہوئے ایک دوست عراق سے میرے لئے مَنّ تحفۃً لائے تھے۔مصنوعی بھی اور اصلی بھی۔مصنوعی تو ویسی ہی تھی جیسے ہندوستان میں ترنجبین ہوتی ہے لیکن اصلی مَنّ کائی کے پتّوں کا ایک ڈلاسا معلوم ہوتا تھا۔مجھے اس دوست نے بتایا کہ یہ رطوبت ان چھوٹے چھوٹے پتّوں سے جو درختوں کی جڑوں پر اُگ آتے ہیں ملی ہوئی ہوتی ہے اور لوگ اِن پتّوں سمیت اسے اکٹھا کر لیتے ہیں پھر گرم کر کے چھان لیتے ہیں اور پتّوں کو پھینک دیتے ہیں۔جو شیرینی ان میں سے نکلتی ہے اس میں بادام اور پستہ وغیرہ ڈال کر اُس کی مٹھائی بنانے کا عربوں میں رواج ہے۔مَیں نے بھی اسے صاف کروایا تو اس میں سے شہد کی طرز کی ایک چیز نکلی۔رنگ اس کا بھُورا سا تھا۔من ملنے کا ذکر بائبل میں مَنّ کا ذکر بائبل میں خروج باب ۱۶ آیت ۱۳ تا ۱۵ میں آتا ہے وہاں لکھا ہے۔’’ اور صبح کو لشکر کے آس پاس اوس پڑی اور جب اَوس پڑ چکی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابان میں ایک چھوٹی چھوٹی گول چیز ایسی سفید جیسے برف کا چھوٹا ٹکڑا زمین پر پڑی ہے اور بنی اسرائیل نے دیکھ کے آپس میں کہا کہ مَنّ ہے کیونکہ انہوں نے نہ جاناکہ وہ کیا ہے تب موسیٰ نے اُنہیں کہا کہ یہ روٹی ہے جو خداوند نے کھانے کو تمہیں دی ہے۔‘‘ اس حوالہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ چیز زمین پر گری تھی لیکن جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے عرب اور شام کے لوگ جہاں یہ مَنّ پیدا ہوتی ہے اُن کی یہ گواہی ہے کہ یہ درختوں پر گری ہوئی یا درختوں سے نکلی ہوئی ایک رطوبت ہے جو شیریں ہوتی ہے۔ممکن ہے دشت ِ سیناء میں جن درختوں کی جڑوں میں سے یہ مَنّ نکلتی ہو یا جن کی جڑوں پر گرتی ہو اُن پر کائی نہ ہوتی ہو اور مصفّٰی ڈلیاں الگ الگ جم جاتی ہوں بہر حال جو مَیں نے دیکھی ہے اور جو عراق میں پائی جاتی ہے وہ تو کائی کے ساتھ مِلی ہوئی ہے اور اسے گرم کر کے الگ کیا جاتا ہے۔بنی اسرائیل کو مَنّ ملنے سے مراد مَنّ کے معنٰی جیسا کہ مَیں بتا چکا ہوں بلا محنت و مشقت ملنے والی چیز کے بھی ہیں اور ان معنوں کے لحاظ سے اِس لفظ کا تمام ایسی چیزوں پر اطلاق ہو سکتا ہے جو بغیر محنت کے مِل جاتی ہیں چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔اَلْکَمْأَۃُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِیْ اَنْزَلَ اللہُ عَلٰی مُوْسٰی (مسلم کتاب الأشربۃ باب فضل الکمأۃ) یعنیُ کھمبی بھی مَنّ کی اُن اقسام میں سے ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھیں۔اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ مَنّ کسی چیز کا نام نہیں بلکہ کئی ایسی چیزیں جو کھانے کے کام آتی ہیں اور جنگلوں میں خود رَو یا بغیر کوشش کے پڑی ہوئی مِل جاتی ہیں اُن سب کو مَنْ کہتے ہیں۔پس ُکھمبی بھی مَنّ کی قسموں میں سے ہے۔