تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 104
کے حکم سے انہوں نے کوچ کیا۔اور جب شام سے صبح تک بدلی ٹھہری رہی اور صبح ہوتے ہوئے بلند ہوئی تو وہیں انہوں نے کوچ کیا۔جب بدلی بلندہوتی خواہ دن ہوتا خواہ رات وے کوچ کرتے تھے اور جب بدلی مسکن پر ٹھہری رہتی خواہ دو دن، خواہ ایک مہینہ، خواہ ایک برس۔بنی اسرائیل اپنے خیموں میں مقیم رہتے اور کوچ نہ کرتے پر جب وہ بلند ہوتی تب وہ کوچ کرتے۔نیز دیکھو۔(گنتی باب ۱۰ آیت ۳۴ و خروج باب ۴۰ آیت ۳۴ تا ۳۸) ان حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جگہ بنی اسرائیل خیمہ زن ہوتے تھے وہاں بادل پھیل کر سایہ کر لیتے تھے۔جب اُن کے سفر پر روانہ ہونے کا دن آتا تو پھر بادل اوپر چڑھ جاتے لیکن قرآن شریف کے الفاظ اور سیاق سے مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ بادلوں کے ِگھر آنے سے بارش ہونا مراد ہے کیونکہ عام طور پر برسنے والے بادل گھنے اور تاریک ہوتے ہیں۔پس یا تو قرآن کریم اس جگہ بائبل کے بیان کی تردید کرتا ہے یا دوسرے واقعہ کا بیان کرتا ہے جس کا ذکر بائبل میں نہیں۔میرے نزدیک اس جگہ تردید ہی ہے کیونکہ بائبل نے جس طرح بادلوں کا ذکر کیا ہے وہ غیر معقول اور ساتھ ہی غیر ضروری بھی ہے۔بنی اسرائیل کو کسی جگہ ٹھہرانے کے لئے انہیں چاروں طرف سے بادلوں سے گھیر لینے کی کیا ضرورت تھی موسیٰ علیہ ا لسلام کو الہام ہو جانا کافی تھا۔بادلوں سے سایہ کرنے سے مراد بنی اسرائیل کو بارش کے ذریعہ پانی مہیا کرنا بادلوں کے ساتھ قرآن شریف دو اور کھانے والی چیزوں مَنْ وَ سَلْوٰی کا بھی ذکر فرماتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ویرانے جنگل میں پانی کی طرح کھانے کی بھی قلّت تھی۔اﷲ تعالیٰ گھنے بادل بھیج کر ان کی پیاس بجھاتا تھا اور مَنّ و سَلْوٰی سے اُن کی بھوک دور فرماتا تھا۔اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کی تکالیف دور کرنے اور ان کی آسائش و آرام بڑھانے کے لئے خاص انعامات ظاہر فرماتا ہے۔یہ اُس کی عادت زمانۂ گزشتہ ہی کے لئے نہ تھی بلکہ اس زمانہ میں بھی وہ اپنے مقبول بندوں کے لئے انعام و برکات اسی طرح نازل فرماتا ہے اِس کے یہ معنے کرنے کہ ہر وقت ان پر بادلوں کا سایہ رہتا تھا درست نہیں کیونکہ ہر وقت اَبَر کا رہنا تو بجائے نعمت کے مصیبت ہے۔بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ وہ جنگل میں رہتے تھے۔کھانے پینے کی چیزوں کی ضرورت تھی۔اﷲ تعالیٰ ان پر بادل برساتا تھا جس سے وہ پیاس بجھاتے تھے اور دوسری ضرورتیں پوری کرتے تھے۔مَنّکی تشریح مَنّ کے لغوی معنے اوپر لکھے جا چکے ہیں۔ترنجبین یا ہر وہ چیز جو بغیر محنت کے ملے اُسے مَنّ کہتے ہیں۔یہ اپنے مخصوص معنوں میں گوند کی قسم کی ایک چیز ہے جو بعض درختوں پر جم جاتی ہے اور مزے میں شیریں ہوتی ہے۔بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ ترنجبین ہے۔ترنجبین کے نام پر جو دوا ہندوستان میں مِلتی ہے اُس میں سے اکثر