تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 103
والے نے جو گوشت کو سَلْوٰیکہا ہے وہ اس لئے ہے کہ گوشت کے ملنے کی وجہ سے دوسرے سالنوں کی طرف رغبت نہیں رہتی۔طَیّبَاتٌ۔طَیِّبَاتٌ۔طَیِّبَۃٌ کی جمع ہے اور طَیِّبَۃٌ طَیِّبٌ سے مؤنث کا صیغہ ہے جو طَابَ سے بنا ہے اور طَابَ الشَّیْءُ کے معنی ہیں لَذَّ وَ زَکَا وَ حَسُنَ وَحَلَا وَجَلَّ وَجَادَ کہ کوئی چیز مرغوب ،پاکیزہ ،عمدہ، خوبصورت، دلربا اور دل لبھانے والی ہو گئی ( اقرب) طَیِّبٌ کے معنے ہیں ذُوالطِّیْبَۃِ جس کے اندر لفظ طَابَ کے معنی کے ضمن میں بیان شدہ تمام صفات ہوں۔خِلَافُ الْخَبِیْثِ جو گندہ ،ردّی اور فاسد نہ ہو۔اَلْحَلَالُ۔حلال (اقرب) مفردات میں ہے اَصْلُ الطَّیِّبِ مَا تَسْتَلِذُّہُ الْحَوَاسُ وَمَا تَسْتَلِذُّہُ النَّفْسُ کہ طیّب کے اصل معنے تو یہ ہیں کہ جس سے حواس انسانی اور نفس انسانی لذّت اُٹھائے۔وَالطَّعَامُ الطَّیِّبُ فِی الشَّرْعِ مَاکَانَ مُتَنَاوَلًا مِنْ حِیْثُ مَایَجُوْزُ وَ بِقَدْرِمَایَجُوْزُ وَمِنَ الْمَکَانِ الَّذِیْ یَجُوْزُ اور شریعت کی رو سے طیّب اس چیز کو کہیں گے جو جائز طریقہ اور مناسب و جائز اندازے کے مطابق اور جائز جگہ سے حاصل کی جائے۔(مفردات) رَزَقْنٰـکُمْ۔رَزَقْنَا رَزَقَ سے متکلّم مع الغیر کا صیغہ ہے اور اَلرِّزْقُ (جو رَزَقَ کا مصدر ہے) کے معنے ہیں۔اَلْعَطَاءُ۔عطا کرنا۔دینا۔جیسے کہتے ہیں رُزِقْتُ عِلْمًا کہ مجھے علم دیا گیا ہے۔اور اس کے ایک معنی حصہ کے بھی ہیں جیسے وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ (الواقعہ:۸۳) کہ تم نے اپنے ذمہ یہ کام لگا لیا ہے کہ رسول اور خدا کی باتوں کا انکار کرتے ہو (مفردات) اقرب الموارد میں ہے۔اَلرِّزْقُ۔مَایُنْتَفَعُ بِہٖ ہر وہ چیز جس سے نفع اُٹھایا جائے۔اور رَزَقَہُ اللّٰہُ ( یَرْزُقُ) رِزْقًا کے معنے ہیں اَوْصَلَ اِلَیْہِ رِزْقًا کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے ایسی اشیاء عطا فرمائیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔رزق اس چیز کو بھی کہتے ہیں جو غذا کے طور پر استعمال کی جائے (مفردات) ظَلَمُوْنَا۔ظَلَمَ کے لئے دیکھو حَلِّ لُغَات سورۃ ہذاآیت نمبر ۵۲۔تفسیر۔بائبل میں بنی اسرائیل پر دشت میں بادلوں کے سایہ کرنے کا ذکر گنتی باب ۹ آیت ۱۷ تا ۲۲ میں لکھا ہے۔’’ اور جب مسکن پر سے بدلی اُٹھائی جاتی تھی تو بنی اسرائیل کوچ کرتے تھے اور جہاں بدلی آ کے ٹھہرتی تھی وہاں بنی اسرائیل خیمے کھڑے کرتے تھے۔خداوند کے حکم سے بنی اسرائیل کوچ کرتے تھے اور خداوند کے حکم سے مقام کرتے تھے۔اور جب تک کہ بدلی مسکن پر ٹھہرتی تھی خیموں میں رہتے تھے اور جب بدلی مسکن پر بہت دنوں تک ٹھہری رہی تو بنی اسرائیل خداوند کے حکم پر لحاظ کرتے رہے اور کوچ نہ کیا اور ایسے ہی جب بدلی جب تھوڑے دنوں تک مسکن پر رہی وے خداوند کے حکم سے اپنے خیموں میں رہے اور خداوند