تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 101

ہوں گے یا نہیں کیونکہ وہ تو مر چکے اور حقیقت کا انکشاف ان پر ہو چکا چنانچہ وہ لکھتے ہیں وَ اخْتُلِفَ فِیْ بَقَاءِ تَکْلِیْفِ مَنْ اُعِیْدَ بَعْدَ مَوْتِہٖ وَ مُعَایَنَۃِ الْاَحْوَالِ الْمُضْطَرَّۃِ اِلَی الْمَعْرِ فَۃِ عَلٰی قَوْلَیْنِ اَحَدُھُمَا بَقَاءُ تَکْلِیْفِھِمْ لِئَلَّا یَخْلُوَ عَاقِلٌ مِنْ تَعَبُّدٍ۔اَلثَّانِیْ۔سَقُوْطُ تَکْلِیْفِہِمْ مُعْتَبِرًا بِا لْاِسْتِدْلَالِ دُوْنَ الْاِضْطِرَارِ(قرطبی زیر آیت ھذا ) ماوردی کہتے ہیں کہ جو لوگ موت کے بعد زندہ ہوں اور اُن حالات کو آنکھوں سے دیکھ لیں جو انسان کو معرفت پر مجبور کر دیتے ہیں تو ان کے متعلق اختلاف ہے کہ آیا عبادت اُن پر واجب رہتی ہے یا نہیں۔ایک قول تو یہ ہے کہ اُن پر واجب رہتی ہے تاکہ کوئی عاقل بھی عبادت سے باہر نہ رہے یعنی جہاں تک اُن کے نفس کا تعلق ہے جسمانی عبادات اُن کو فائدہ نہیں دیتیں لیکن اس لئے کہ دوسرے لوگوں کو ٹھوکر نہ لگے اُن کے لئے بھی عبادت کرتے رہنا ضروری ہے۔دوسرا قول یہ ہے کہ اُن پر سے عبادات ساقط ہو جاتی ہیں کیونکہ اعمال کے لئے مکلّف کیا جانا اسی وقت تک مفید ہو سکتا ہے جبکہ اعمال کی بنیاد استدلال پر ہو۔نہ کہ ایسی حالت پیدا ہو جائے جو کہ مضطر اور مجبور کر کے ان پر عمل کروائے۔اس شبہ سے ثابت ہوتا ہے کہ پرانے مفسّرین اور علماء کے دلوں میں بھی یہ شبہ موجود تھا کہ مُردوں کا اس دنیا میں واپس آنا شریعت کے بعض اَور مسائل کو باطل کر دیتا ہے گو انہوں نے اِس شبہ کے ازالہ کے لئے کوشش کی ہے مگر جیسا کہ ظاہر ہے وہ کوشش ناکام رہی ہے اور تسلّی بخش نہیں۔پس حقیقت یہی ہے کہ حقیقی مُردے اِس دنیا میں زندہ ہو کر واپس نہیں آتے اور اس آیت میں یا اَور جس آیت میں بھی مُردوں کے زندہ ہونے کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے اس کے معنے حقیقی احیاء موتیٰ کے نہیں ہو سکتے بلکہ یا روحانی مرد ے کا زندہ ہونا۔یا مُردے جیسی حالت کو پُہنچے ہوئے مریض کا اچھا ہونا۔یا گری ہوئی قوم کا دوبارہ ترقّی پانا یا کفر کی حالت کا ایمان کی حالت سے بدل جانا یا اور اسی قسم کے کسی تغیّر کا پایا جانا ہی مراد ہے۔وَ ظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى ١ؕ اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تمہارے لئے مَن اور سَلویٰ اتارے۔(اور کہا کہ) كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْا ان پاک چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں کھاؤ۔اور انہوں نے( نافرمانی کرکے ) ہمارا نقصان نہیں کیا