تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 102
اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ۰۰۵۸ بلکہ وہ اپنا ہی نقصان کر رہے تھے۔حلّ لُغات۔ظَلَّلْنَا۔ظَلَّلَ سے متکلّم مع الغیر کا صیغہ ہے اور ظَلَّلَہٗ تَظْلِیْلًاکے معنے ہیں غَشِیَہٗ وَ اَلْقٰی عَلَیْہِ ظِلَّہٗ اس کو ڈھانپ لیا اور اس پر اپنا سایہ ڈال دیا اور جب ظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ کہیں تو مطلب یہ ہو گا کہ سَخَّرْنَاہُ لِیُظِلَّھُمْ ہم نے بادل کو ان پر سایہ کرنے کی خدمت پر لگا دیا۔(اقرب) اَلْغَمَامُ۔اَلْغَمَامُ کے معنی اَلسَّحَابُ بادل وَقِیْلَ الْاَ بْیَضُ اور بعض نے کہا ہے کہ غمام سفید بادلوں کو ہی کہیں گے اور بادل کو غَمَام کہنے کی یہ وجہ ہے کہ غَمَّ کے معنی ڈھانپنے کے ہیں اور بادل بھی آسمان کو ڈھانپ لیتا ہے۔اس کی جمع غَمَائِمُ آتی ہے۔(اقرب) ٔ اَلْمَنُّ۔مَنَّ یَمُنُّ کا مصدر ہے چنانچہ کہتے ہیں مَنَّ (عَلَیْہِ بِالْعِتْقِ وَغَیْرِہٖ یَمُنُّ )مَنًّا اَیْ اَنْعَمَ عَلَیْہِ بِہٖ مِنْ غَیْرِ تَعْبٍ وَ لَا نَصَبٍ وَ اصْطَنَعَ عِنْدَ ہٗ صَنِیْعَۃً وَ اِحْسَانًا کسی پر اس کی محنت و مشقت کے بغیر انعام کیا اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا احسان کیا نیز اَلْمَنُّ کے معنے ہیں کُلُّ مَا یَمُنُّ اللہُ بِہٖ مِمَّا لَا تَعَبَ فِیْہِ وَلَانَصَبَ ہر وہ چیز جو اﷲ تعالیٰ کسی شخص کو محنت اور مشقت کے بغیر عطا فرماوے وہ مَنّ کہلاتی ہے کُلُّ طَلٍّ یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ عَلٰی شَجَرٍ اَوحَجَرٍ وَیَحْلُوْ وَ یَنْعَقِدُ عَسَلًا وَیَجِفُّ جِفَانَ الصَّمْغِ کَالسِّیْرَخُشْتٍ وَ التُّرَنْجَبِیْنَ۔ہر وہ شبنم جو آسمان سے درختوں اور پتّھروں پر اُترتی ہے اور وہ میٹھی ہوتی ہے اور پھر شہد کی طرح گاڑھی ہو جاتی ہے اور گوند کی طرح سوکھ کر ایسی ہو جاتی ہے مثلاً شیر خشت اور ترنجبین (اقرب) اَلسَّلْوٰی۔اَلسَّلْوٰی کے معنی ہیں(۱) اَلْعَسْلُ شہد(۲)کُلُّ مَاسَلَاکَ ہر وہ چیز جو تسلّی کا موجب ہو۔(۳) طَائِرٌ اَبْیَضُ مِثْلُ السَّمَانِیْ بٹیر کی مانند سفید پرندے ( مفرد سَلْوَاۃٌ آتا ہے ) وَقِیْلَ اَلسَّلْوٰی۔أَللَّحْمُ اور بعض نے کہا ہے کہ سَلْوٰی گوشت کو کہتے ہیں اور اس کی وجہ تسمیہ یہ لکھی ہے لِاَنَّہٗ یُسَلِّی الْاِنْسَانَ عَنْ سَائِرِالْاِدَامِ کہ جب گوشت دسترخوان پر آئے تو یہ باقی سالنوں کی جگہ کافی ہو جاتا ہے اور دوسرے سالنوں کی طرف رغبت نہیں ہوتی (اقرب) مفردات میں ہے کہ اَلسَّلْوٰی اَصْلُہَامَایُسَلِّی الْاِنْسَانَ۔سَلْوٰی کے اصل معنے تو اس چیز کے ہیں جو انسان کو تسلّی دے۔یُقَالُ سَلَیْتُ عَنْ کَذَا اِذَا زَالَ عَنْکَ مَحَبَّتُہٗ چنانچہ سَلَیْتُ عَنْ کَذَا کے معنی ہیں کہ مَیں فلاں مرغوب چیز کو بھول گیا اور دل میں اس کی خواہش نہ رہی ( مفردات) پس اقرب