تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 100

واقعہ اَور ہے اور یہ واقعہ اَور ہے۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہلَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً (البقرة: ۵۶) میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اطاعت کا ذکر ہے نہ کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام پر ایمان لانے کا۔اور مراد یہ ہے کہ جب تک خدا ہمیں نظر نہ آ جائے ہم تیری فرمانبرداری نہیں کریں گے۔پس وہ اس موقع پر موسیٰ ؑ کی نبوت میں شک نہیں کرتے بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اطاعت سے اس وقت تک انکار کرتے ہیں جب تک کہ ان کو وہی درجہ نہ دے دیا جائے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ سے بالمشافہ گفتگو کرنے سے حاصل تھا۔یہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ موت سے مراد درحقیقت حقیقی موت نہیں اور حق یہ ہے کہ اگر حقیقی موت مراد لی جائے تو اوّل تو قرآن کریم کی دوسری آیات کی تردید ہوتی ہے جن میں اِس دنیا میں مُردوں کے واپس آنے سے اِنکار کیا گیا ہے مثلاً سورۂ مؤمنون میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ۔لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۔(المؤمنون: ۱۰۰،۱۰۱) یعنی جب اُن میں سے کسی پر موت کا وقت آتا ہے تو کہتا ہے اے میرے ربّ مجھے لَوٹا دے تاکہ مَیں دنیا میں واپس جا کر اپنے اموال و جائداد کے ذریعہ سے اچھے عمل کروں۔فرماتا ہے ہرگز نہیں۔ہرگز نہیں ایسا کسی صورت میں بھی نہیں ہو سکتا۔یہ صرف ایک بات ہے جو وہ مُنہ سے نکال رہا ہے یہ کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ان مرنے والوں کے پیچھے تو ایک برزخ ہے جو قیامت کے دن تک چلی جائے گی۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ مرنے والا اس دنیا میں واپس نہیں آ سکتا۔جو حیات انسان کو ملے گی اس کی تکمیل اس دن ہو گی جبکہ اگلے جہان کی زندگی کا نیا دَور شروع ہو گا۔اس کے علاوہ عقلی اعتراضات بھی اس دوبارہ زندگی پر پڑتے ہیں مثلاً ایک اعتراض یہی ہے کہ اگر کوئی شخص مر کر دوبارہ زندہ ہو گا تو اس کا ایمان طوعی نہیں ہو گا بلکہ اضطراری ہو جائے گا۔اس دنیا میں ایمان کے لئے ایک حد تک اخفاء کا ہونا ضروری ہے اسی وجہ سے انبیاء کے معجزات میں ایک حد تک اخفاء کا پہلو قائم رکھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے لوگ انبیاء کے نہایت ہی کھلے اور ظاہر معجزات پر بھی اعتراضات کرتے چلے جاتے ہیں۔اگر دنیا کی چیزوںکے مشاہدہ کی طرح ایمان کے معاملات بھی سائنٹفک تجربات کے اصول پر آ جائیں تو اُن پر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ رہے اور کافر و مومن ان کو ماننے پر مجبور ہو جائیں اور ایمان سے جو فائدہ مطلوب ہے وہ جاتا رہے۔پس مُردے کا واپس دنیا میں آنا ایمان کی غرض کو باطل کرتا ہے اور کم سے کم اُس زندہ ہونے والے کے لئے تو ایمان کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔یہ شبہ پہلے مفسرین کے دلوں میں بھی پیدا ہوا ہے چنانچہ علّامہ ماوردی اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ ایسے مُردے جو واپس آئیں آیا وہ اعمال کے مکلّف