تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 6
ہو یا غیرجاندار۔تفسیر۔آیت ھٰذا میں بنی اسرائیل کو آخری کلام پر ایمان لانے کی طرف مزید توجہ کا مبذول کرانا اس آیت میں ایک اور ذریعہ سے بنی اسرائیل کو خدا تعالیٰ کے آخری کلام پر ایمان لانے کی طرف توجہ دلائی ہے پچھلے رکوع میں تو انہیں اس طرف متوجہ کیا تھا کہ خدا تعالیٰ سے تم نے ایک عہد کیا تھا خدا تعالیٰ نے اس عہد کے متعلق اپنی ذمہ واری پوری کر دی لیکن تم نے اپنی ذمہ واری پوری نہیں کی اس لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے محروم رہ گئے۔اب پھر ایک نیا کلام تمہاری کتب کی دی ہوئی خبروں کے مطابق نازل ہوا ہے اس پر ایمان لے آئو تو نئے سرے سے تم پر خدا تعالیٰ کے فضل نازل ہونے لگیں گے۔اب اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ محسن کی محبت تو شریفوں کا خاصہ ہے۔خدا تعالیٰ کے تم پر بیحد احسان ہیں تمہاری قوم کو ادنیٰ حالت سے اٹھا کر اس نے ایسی ترقی دی کہ دنیا کی بہترین قوموں میں سے بنا دیا پھر کیوں اس کے احسان کی قدر نہیں کرتے اور اس کے پیغام کو ردّ کرتے ہو۔احسان کی قدر کرو اور اپنے محسن سے منہ نہ موڑو۔آیت وَ اَنِّيْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَسے مراد ساری قومیں نہیں اَنِّيْ فَضَّلْتُكُمْ سے یہ مراد نہیں کہ اگلی پچھلی سب قوموںپر فضیلت دی بلکہ یہ مراد ہے کہ اپنے زمانہ کے لوگوں پر فضیلت دی۔قرآن شریف میں اُمّت محمدیہؐ کی نسبت فرمایا ہے کہ یہ تمام امتوں سے بڑھ کر ہے جیسا کہ فرمایا۔كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران :۱۱۱) اور فرمایا۔وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا (البقرة :۱۴۴) یہ امر کہ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ سے مراد اسی زمانہ کے لوگ ہیںقرآن شریف کی اس آیت سے خوب کھل جاتا ہے۔اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ (آل عمران :۳۴)اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عَالَمِیْنَ سے مراد اپنے اپنے زمانہ کے لوگ ہیں جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے جن انبیاء اور لوگوں کا ذکر ہے وہ مختلف زمانوں میں گزرے ہیں اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان میں سے ہر ایک تمام زمانوں کے لوگوں پر فضیلت رکھتا تھا۔کیونکہ اگر آدم ؑ تمام زمانوں کے لوگوں پر فضیلت رکھتے تھے تو اس سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ نوح ؑ پر اور دوسرے بزرگوں پر بھی جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہے ان کو فضیلت حاصل تھی۔اس صورت میں ان دوسرے بزرگوں کی نسبت کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ان کو تمام زمانوں کے لوگوں پر فضیلت دی تھی۔عالم سے مراد اردگرد یا خاص زمانہ کے لوگ پس بلاشبہ عَالَمِیْنَ سے مراد خاص زمانہ کے لوگ ہیں۔ان آیات کے علاوہ ایک اور آیت بھی عَالَمٌ کے معنوں پر روشنی ڈالتی ہے۔سورۂ حجر ع۵ میں حضرت لوط کے ذکر میں