تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 7
آتا ہے کہ جب وہ چند مہمانوں کو اپنے گھر لے آئے تو شہروالوں نے ان سے کہا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ (الحجر:۷۱) کیا ہم نے تجھے غیرقوموں کے لوگوں کو شہر میں لانے سے منع نہیں کیا تھا اس جگہ عَالَمِیْنَ سے مراد اردگرد کے لوگ ہیں نہ کہ اگلی پچھلی نسلوں کے آدمی۔پس معلوم ہوا کہ قرآن کریم میں جہاں عَالَمِیْنَ کا لفظ استعمال ہوا ہے ضروری نہیں کہ اپنے وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہو۔بلکہ اس کے معنی اردگرد کے لوگ یا اسی زمانہ کے لوگ بھی ہو سکتے ہیں۔اور یہی دونوں معنے آیت زیرتفسیر میں مراد ہیں۔بنی اسرائیل کو عالمین پر فضیلت بخشے جانے سے مراد روحانیات کے سب میدانوں میں فضیلت بخشے جانا ہے اس آیت میں فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ فرمایا ہے اَلنّاس نہیں فرمایا۔اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ بنی اسرائیل کی فضیلت کئی رنگ میں تھی۔عَالَم کے معنے جیسا کہ سورۃفاتحہ( آیت نمبر ۲)کی تفسیرمیں بتایا جا چکا ہے اس گروہ یا قسم کے ہیں جو خدا تعالیٰ کے لئے بطور نشان ہوتا ہے پس عَالَمِیْنَ کا لفظ مختلف قسم کی خصوصیات رکھنے والے گروہوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور مراد یہ ہے کہ ہر قسم کے روحانی علوم میں تم کو ترقی ملی تھی۔اگر اَلنَّاس ہوتا تو ایک قسم کی ترقی ہی اس سے سمجھی جا سکتی تھی مگر عَالَمِیْنَ کے لفظ سے اس طرف اشارہ ہے کہ روحانیت کے سب میدانوں میں انہیں فضیلت بخشی گئی۔کیا بلحاظ شریعت کے ،کیا بلحاظ روحانیت کے ،کیا بلحاظ اخلاقِ فاضلہ کے۔غرض ہر قسم کے صاحب کمال لوگ ان میں پیدا ہوئے۔جو اس زمانہ کے یا اردگرد کی قوموں کے دوسرے صاحبِ کمال لوگوں پر فضیلت رکھتے تھے۔وَ اتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِيْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْـًٔا وَّ لَا يُقْبَلُ اور اس دن سے ڈرو کہ (جس دن) کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا قائم مقام نہ بن سکے گا اور نہ اس کی طرف سے کوئی مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ۰۰۴۹ سفارش منظور کی جاوے گی اور نہ اس سے (کسی قسم کا) معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جاوے گی۔حَلّ لُغَات۔اِتَّقُوْا۔اِتَّقُوْا امر مخاطب کا جمع کا صیغہ ہے۔اَلْمُتَّقِیْنَ۔اَلْمُتَّقِیْنَ متقی کی جمع ہے جو اِتَّقٰی کا اسم فاعل ہے۔اِتِّقَاءٌ وَقٰی سے بابِ اِفْتِعال کامصدر ہے۔وَقٰی کے معنے ہیں بچایا، حفاظت کی اور اِ تَّقٰی کے معنے ہیں۔بچا۔اپنی حفاظت کی (اقرب) مگر اس لفظ کا