تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 88
مقطّعات کا صحیح مفہوم بعض نے ان حروف کے معنی یہ کئے ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر ہے جن کی تشریح بعد کی سورۃ میں کی گئی ہے اور صفات کے پہلے حروف یا بعض اہم حروف کو مضمون کی طرف اشارہ کرنے کے لئے بیان کر دیا گیا جیسا کہ مَیں آگے چل کر بیان کروں گا یہی معنی سب سے زیادہ درست اور شانِ قرآن اور شہادتِ قرآن کے مطابق ہیں بعض نے ان حروف سے ان آیات کے مضامین کے اوقات کی طرف اشارہ مراد لیا ہے یعنی حروف مقطّعات سے جس قدر عدد نکلتے ہیں اس قدر عرصہ تک کے متعلق ان سورتوں میں واقعات بیان کئے گئے ہیں۔یا یہ کہ اس زمانہ کے حالات کی طرف ان سورتوں میں خاص طو رپر اشارہ کیا گیا ہے یہ معنی بھی جیسا کہ بتایا جائے گا درست معلوم ہوتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی کم سے کم ان کی تصدیق کرتی ہے۔مقطّعات کے معانی سمجھنے میں مغربی محقّقین کی غلطی بعض مغربی مصنفین نے یہ معنے کئے ہیں کہ یہ ان کاتبوں کے نام ہیں جنہوں نے حضرت محمد (صلے اللہ علیہ وسلم) کے حکم سے یہ سورتیں لکھیں (سیل بحوالہ گولیس) چنانچہ انہوں نے الف سے ابوبکر ع سے علی یا عمر س سے سعد ط سے طلحہ اور ھا سے ابوہریرہؓ وغیرہ مراد لئے ہیں یہ معنے اس ناواقفیت کا ایک اور ثبوت ہیں جس کے باوجود ہر مغربی مصنف اسلام کے بارہ میں علمیت کا دعویٰ کرنے پر تیار رہتا ہے لطف یہ ہے کہ ہ سے حضرت ابوہریرہؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے صرف تین سال پہلے اسلام لائے تھے جبکہ سورۂ مریم اور سورۂ طٰہٰ جن میں ہ آتی ہے دونوں ہی مکی ہیں اور ابوہریرہؓ کے اسلام لانے سے دس پندرہ سال پہلے نازل ہو چکی تھیں علاوہ ازیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ثابت ہے کہ یہ حروف بھی الہامی ہیں۔نیز یہ امر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اگر یہ سورتیں دوسرے صحابہ سے تیار کروائی گئی تھیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر افراد کو اپنے جھوٹے ہونے کا (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ) گواہ بنا لیا آخر جب باقی قرآن آپ نے (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ) خود بنایا تھا تو ان سورتوں کو صحابہ سے بنوانے کی کیا خاص غرض تھی اور کیوں ان کو ایک افتراء کا گواہ بنایا۔اور اگر بفرض محال ایسا کیا بھی تھا تو ان نامو ںکو شروع میں رکھ کر اس افتراء کا ثبوت کیوں بہم پہنچایا ایسا کام تو ایک نیم عقل کا انسان بھی نہیں کر سکتا؟ حروف مقطّعات قرآن کریم کی وحی کا حصہ ہیں اس امر کا ثبوت کہ ان حروف کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی وحی کا حصہ قرار دیا ہے اس حدیث سے ملتا ہے جو بخاری نے اپنی کتاب تاریخ میں نیز ترمذی اور حاکم نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کی ہے۔وہ فرماتے ہیں۔قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ