تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 89

مَنْ قَرَئَ حَرْفًا مِّنْ کِتَابِ اللّٰہِ فَلَہٗ بِہٖ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَا لِھَا لَا اَقُوْلُ الٓـمّٓ حَرْفٌ وَلٰـکِنْ اَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَّ مِیْمٌ حَرْفٌ (ترمذی ابواب فضائل القرآن۔باب ما جاءَ فی من قَرَأ حرفًا من القرآن ما لہ من الاجر) اس روایت کو بزاز اور ابن شیبہ نے بھی عوف بن مالک الاشجعی کی سند پر نقل کیا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن کریم کا ایک حرف بھی پڑھے وہ جنت کا مستحق ہو گا اور اس کی یہ نیکی دس گنے ثواب کا مستحق اسے بنا دے گی اور میں یہ نہیں کہتا کہ الٓم ایک حرف ہے بلکہ الٓمّٓ کا الف ایک مستقل حرف ہے اور لام ایک مستقل حرف ہے اور میم ایک مستقل حرف ہے۔(اس جگہ حرف سے مراد لفظ ہے قواعد نحو کے مدوّن ہونے سے پہلے حرف کا لفظ الفاظ کے لئے بھی عربی میں استعمال کیا جاتا تھا اسلامی زمانہ میں قواعد نحو کے مدوّن ہونے پر حرف کا لفظ حروف ہجاء یا ان الفاظ کے لئے مخصوص کر دیا گیا جو دوسرے لفظوں سے ملے بغیر مستقل معنی نہیں دیتے) اس شہادت کی موجودگی میں کون خیال کر سکتا ہے کہ یہ حروف کا تبو ںنے اپنے نام کے لئے بطور علامت کے سورتوں کے شروع میں رکھ دیئے تھے۔پھر لطف یہ ہے کہ دعویٰ تو یہ ہے کہ کاتبوں نے اپنے ناموں کی علامت کے طور پر یہ حروف لکھے تھے لیکن الٓـمّٓ کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اَمَرَلِیْ مُحَمَّدٌ مجھے اس کے لکھنے کا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حکم دیا ہے ان معنوں سے تو کسی شخص کا نام بھی ظاہر نہیں ہوتا۔پھر یہ علامت کس بات کی ٹھہرے؟ اس حدیث سے بھی جو جابر بن عبداللہ سے ابھی بیان کی جائے گی اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الٓمّٓ کو وحی الٰہی کا حصہ قرار دیا ہے۔حروف مقطّعات کے مطالب ان کے اعداد کے لحاظ سے میں نے ایک معنی ان حروف کے یہ بتائے تھے کہ ان کے عدد کے مطابق سالوں کے واقعات کی طرف ان کے بعد کی سورۃ میں اشارہ کیا گیا ہے۔یہ معنی ایک یہودی عالم نے کئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس نے ان کو دہرایا آپؐ نے اس کی تردید نہیں کی بلکہ ایک رنگ میں تصدیق کی۔اس لئے یہ معنی بھی قابل ِ غور ضرور ہیں اور تدبرّ کرنےوالوں کے لئے اس تفسیر سے کئی نئے مطالب کی راہ کھل جاتی ہے وہ حدیث جس میں اس تشریح کا ذکر آتا ہے یُوں ہے ابن اسحاق نے اور بخاری نے (اپنی تاریخ میں) نیز ابن جریر نے ابن عباس سے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ سے یوں روایت کی ہے مَرَّ اَبُوْ یَاسِرِ بْنِ اَخْطَبَ فِیْ رِجَالٍ مِنْ یَھُوْدَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ یَتْلُوْ فَاتِحَۃَ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ (الٓمّٓ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ) فَاَتٰی اَخَاہُ حُیَیَّ بْنَ اَخْطَبَ فِیْ رجَالٍ مِّنَ الْیَھُوْدِ فَقَالَ، تَعْلَمُوْنَ۔وَاللّٰہِ لَقَدْ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا یَتْلُوْ فِیْمَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ (الٓمّٓ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ) فَقَالَ اَنْتَ سَمِعْتَہٗ فَقَالَ