تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 87

اور ابراہیمی دعا میں آخری موعود کی بعثت کا یہی مقصد بیان کیا گیا ہے۔دوسرا تعلق سورۃ فاتحہ کا سورۃ بقرہ سے یہ ہے کہ اس میں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَکی دعا سکھائی گئی تھی اور سورۂ بقرہ کی ابتداء بھی آیت ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠سے ہوئی ہے یعنی یہ سورۃ صراط مستقیم کی طرف لے جانے کے مقصد کو پورا کرتی ہے اور فاتحہ کی دعا کی قبولیت کا ظاہری نشان ہے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ تعالیٰ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا بار بار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں) الٓمّٓۚ۰۰۲ الٓمّٓ تفسیر۔حروف مقطّعات اور ان کی تعداد چونکہ یہ حروف الگ الگ بولے جاتے ہیں انہیں حروف مقطعات کہتے ہیں جو ایک سے لے کر پانچ کی تعداد تک بعض سورتوں کے شروع میں بیان کئے گئے ہیں حروف کی اقسام کے لحاظ سے یہ چودہ حرف ہیں اور ان کی تفصیل یہ ہے ا۔ل۔م۔ص۔ر۔ک۔ہ۔ی۔ع۔ط۔س۔ح۔ق۔ن۔ان میں سے ق اور نون اکیلا اکیلا ایک سورۃ کے پہلے آیا ہے۔باقی دو دو یا زیادہ مل کر آئے ہیں۔مقطّعات کے معنوں کے بارہ میں مفسرین کا اختلاف ان کے معنوں کے بارہ میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے بعض نے تو لکھا ہے کہ یہ حروف خدا تعالیٰ کے اسرار میں سے ہیں اس لئے ان کے معنوں کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔بعض نے لکھا ہے کہ ان سے یہ مراد ہے کہ قرآن کریم بھی حروف ہجاء سے بنا ہے مگر پھر بھی معجزانہ کلام ہے اگر یہ انسانی کلام ہوتا تو کیوں عرب انہی حروف سے ایسا ہی کلام نہ بنا لیتے۔بعض نے کہا ہے کہ یہ سورتوں کے نام ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ قسمیں ہیں جو سورۃ کے مضمون پر اللہ تعالیٰ نے کھائی ہیں۔مگر سب مطالب ایسے معمولی ہیں کہ ان کی خاطر حروف مقطّعات کا قرآنی سُوَر کے شروع میں رکھنا نظر میں جچتا نہیں۔بعض نے ان کو بامعانی کلام کا خلاصہ قرار دیا ہے مثلاً الف لام میم کے معنے یہ کئے ہیں کہ اللہ جبریل محمد یعنی اللہ تعالیٰ نے جبریل کے ذریعہ سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر یہ کلام نازل کیا ہے۔یہ معنے الف لام میم کے حروف پر تو چسپاں ہو جاتے ہیں۔لیکن تمام حروفِ مقطّعات کی اس طرح تشریح نہیں ہو سکتی۔